پشاور: پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) نے گزشتہ سال دل کے پیچیدہ امراض میں مبتلا 2,500 سے زائد مریضوں کا علاج کیا، جن کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر صوبوں اور افغانستان سے تھا۔ سب سے زیادہ مریض پنجاب سے آئے۔

 

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال مجموعی طور پر 2,571 مریض پی آئی سی میں زیر علاج رہے، جن میں 1,597 افغانستان، 628 پنجاب، 104 سندھ، 96 اسلام آباد، 73 آزاد کشمیر، 48 بلوچستان اور 25 گلگت بلتستان سے تعلق رکھتے تھے۔

 

ادارے کے ڈین پروفیسر سید شہکار احمد شاہ کے مطابق دیگر صوبوں کے کارڈیالوجسٹس پیچیدہ کیسز پی آئی سی کو ریفر کرتے ہیں کیونکہ یہاں جدید سہولیات اور ماہر ڈاکٹر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی سی میں بڑے دل کے آپریشنز نجی اسپتالوں کے مقابلے میں کم اخراجات اور بہتر معیار کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے مریض صحت کارڈ پلس کے تحت مفت علاج کی سہولت حاصل کرتے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں اور افغانستان سے آنے والے مریض تشخیص اور علاج کے اخراجات خود ادا کرتے ہیں۔

 

حکام کے مطابق 2020 سے اب تک صحت کارڈ پلس کے تحت ملک کے مختلف صوبوں میں خیبر پختونخوا کے رہنے والے تقریباً تین لاکھ افراد مفت علاج سے مستفید ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب پنجاب سے خیبر پختونخوا میں علاج کے لیے آنے والے مریض فیس ادا کرتے ہیں۔

 

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال پی آئی سی میں خیبر پختونخوا کے 79,634 مریضوں کا علاج کیا گیا، جن میں 11,296 بچے شامل تھے۔ 300 بستروں پر مشتمل یہ ادارہ دسمبر 2020 میں قائم کیا گیا تھا اور جدید دل کے علاج میں ملک بھر میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔