صوبائی حکومت تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑے گی اور انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واضح کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے، تاہم ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتیں اور مختلف مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے اگر تیراہ پر نافذ کیے گئے تو وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیا جاتا تو قوم کو ساتھ ملا کر اتفاق رائے سے فیصلے ممکن تھے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی عوام نے ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دیں اور ہر مشکل وقت میں صف اول میں کھڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے باوجود اگر امن کی ضمانت نہیں تو موجودہ حکمت عملی پر سنجیدہ نظرثانی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک منظم مائنڈ سیٹ گزشتہ 75 سال سے پشتونوں، بالخصوص قبائلی عوام کے خلاف سرگرم ہے جو انہیں مین اسٹریم سسٹم کا حصہ بننے نہیں دینا چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ منتخب وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ان کے خلاف منفی اور گمراہ کن پراپیگنڈا کیا گیا، تاہم عوامی حمایت سے ہر منفی بیانیے کو ناکام بنایا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اپنے عوام سے بندوق کے بجائے قلم دینے کا وعدہ کر چکے ہیں اور تعلیم، شعور اور ترقی کے ذریعے پائیدار امن چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام امن پسند ہیں اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے عوام کو اتنا شعور دیا ہے کہ وہ حقیقت اور منافقت میں فرق بخوبی جانتے ہیں، اسی لیے عوام آج ہر منفی پراپیگنڈے کو مسترد کر رہے ہیں۔
یہ باتیں انہوں نے ضلع خیبر کے مشران اور عمائدین کے جرگے کی صدارت کرتے ہوئے کہیں، جہاں ضلع خیبر میں امن و امان کی صورتحال اور تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ جرگے میں قومی مشران نے امن کی بحالی اور تیراہ متاثرین کی باعزت نقل مکانی سے متعلق تجاویز پیش کیں۔
وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تیراہ متاثرین کو فوری ریلیف اور ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے اور ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔
