خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے تحت کلاس فور کی خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ محکمہ خزانہ نے سکیل تین کے چوکیدار کی 657 خالی اسامیوں پر تقرری کے لیے باضابطہ اجازت جاری کر دی ہے۔

 

دستاویزات کے مطابق محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی جانب سے ضم شدہ اضلاع میں کلاس فور کی خالی آسامیوں پر بھرتی کی اجازت طلب کی گئی تھی، جس پر محکمہ خزانہ نے مراسلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام بھرتیاں کھلے اشتہار، مقابلے کے عمل اور خالص میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی، جیسا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے قواعد و ضوابط میں درج ہے۔

 

محکمہ تعلیم کے مطابق منظور شدہ اسامیوں میں ضلع باجوڑ میں 27، خیبر میں 74، کرم میں 103، مہمند میں 66، شمالی وزیرستان میں 129، اورکزئی میں 81، جنوبی وزیرستان اپر میں 29 اور جنوبی وزیرستان لوئر میں 27 اسامیاں شامل ہیں۔

 

 اس کے علاوہ سابقہ فاٹا ریجنز میں ایف آر پشاور کے لیے 20، ایف آر بنوں کے لیے 32، ایف آر ٹانک کے لیے 24، ایف آر لکی مروت کے لیے 15، ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان کے لیے 13 اور ایف آر کوہاٹ کے لیے 17 اسامیوں کی منظوری دی گئی ہے۔

 

مراسلے میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ کسی صورت بھی منظور شدہ خالی آسامیوں سے زائد یا ڈائنگ کیڈر پوسٹوں پر بھرتی نہیں کی جائے گی۔ اس منظوری کے بعد ضم شدہ اضلاع میں روزگار کے مواقع میں اضافے اور تعلیمی اداروں میں معاون عملے کی کمی پوری ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔