وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضلع باجوڑ کے پارلیمنٹیرینز، قومی مشران اور عمائدین پر مشتمل ایک اہم جرگہ منعقد ہوا، جس میں صوبے میں امن و امان، پاک افغان تعلقات کی بہتری اور ترقیاتی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔

 

جرگے کے دوران باجوڑ کے عوام اور قبائلی مشران نے مستقل امن کے قیام کے حوالے سے تجاویز پیش کیں، جبکہ وزیر اعلیٰ نے باجوڑ میں حالیہ آپریشن کے دوران جزوی متاثرہ گھروں کی تعمیر نو کے لیے رقم 1 لاکھ 60 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کرنے کا اعلان کیا۔

 

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن و امان کے قیام میں پولیس، سکیورٹی فورسز اور عوام نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔

 

 انہوں نے کہا کہ 2018 میں قربانیوں کی بدولت ملک میں مکمل امن قائم ہو چکا تھا اور اب حالات کو جان بوجھ کر خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 

سہیل آفریدی نے جرگے کو بتایا کہ بند کمروں میں فیصلے ہمیشہ حالات خراب کرتے ہیں، اور امن و امان کے قیام کا مؤثر طریقہ قبائلی مشران اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے کر فیصلہ سازی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کسی بھی ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنے گی اور باجوڑ کے عوام اور مشران کا کردار قابلِ ستائش ہے۔

 

وزیر اعلیٰ نے فاٹا انضمام کے وقت وعدہ کردہ 100 ارب روپے سالانہ کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سات سالوں میں صرف 168 ارب روپے فراہم کیے گئے، جب کہ وفاق پر 532 ارب روپے بقایا ہیں۔ انہوں نے اے آئی پی فنڈز کی عدم فراہمی پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔

 

مزید برآں، وزیر اعلیٰ نے ضم اضلاع میں پولیس میں بھرتیوں کے لیے عمر کی آخری حد بڑھانے، باجوڑ کے شہداء کے پیکج پر کام تیز کرنے، قبائلی مشران کو سکیورٹی فراہم کرنے اور روشن قبائل پیکج کے تحت اسکولوں و اسپتالوں کو بہتر بنانے کی ہدایات جاری کیں۔