ایران میں 28 دسمبر 2025ء کو شروع ہونے والے پُرتشدد مظاہرے تھم چکے ہیں، انٹرنیشنل کالز بحال ہو چکی ہیں اور ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں میں بے امنی کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے، لیکن دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں بلکہ ان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید شدت آ رہی ہے۔

 

ایران میں بظاہر حالات معمول پر آ چکے ہیں، لیکن امریکی حملے کا خطرہ ابھی مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے این بی سی نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایران میں 50 سے زائد مقامات کو نشانہ بنا سکتا ہے، جبکہ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ ایران پر مختصر مگر مضبوط حملہ کرنا چاہتے ہیں۔

 

امریکی صدر ٹرمپ کو دوسری بار اقتدار میں آئے ایک سال گزر چکا ہے، لیکن جب سے وہ وائٹ ہاؤس واپس آئے ہیں تب سے ان کی خارجہ پالیسی کسی کو سمجھ نہیں آ رہی۔ وہ کبھی امن کی بات کرتے ہیں اور نوبیل امن انعام کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں، اور کبھی کسی ملک پر حملے کی بات کرتے ہیں۔

 

2026 کے آغاز کے ساتھ ہی امریکی صدر ٹرمپ نئے انداز میں نظر آئے۔ 2 جنوری کو انہوں نے ایران میں رجیم چینج کا اشارہ دیا، 3 جنوری کو انہوں نے وینزویلا پر حملہ کر کے اس کے صدر نکولس مادورو کو ان کی بیوی سمیت اغوا کیا، اور پھر اس کے اگلے دن گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی دھمکی دی۔ سوال اٹھتا ہے کہ ٹرمپ 2026 میں آخر کیا کرنے جا رہے ہیں؟

 

کیا وینزویلا کے بعد وہ ایران پر حملہ کریں گے یا محض دھمکیاں دے رہے ہیں؟ ایران پر حملہ اور بعد ازاں رجیم چینج کے پاکستان پر اثرات کیا ہوں گے؟ ٹی این این نے اس حوالے سے بین الاقوامی امور کے ماہرین سے بات کی ہے۔

 

ایران وینزویلا نہیں ہے

 

سربراہ پاک چائنہ انسٹیٹیوٹ اور سابق سینیٹر مشاہد حسین سید کے مطابق، جو کچھ وینزویلا میں ہوا اس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ خود کو زیادہ پراعتماد محسوس کر رہے ہیں کیونکہ وہ وینزویلا کے معاملے میں بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے بغیر کسی رجیم چینج کے وینزویلا کے صدر اور ان کے خاندان کو گرفتار کیا، اور یہ سب انہوں نے وینزویلا کی قیادت کے ایک حصے کے تعاون سے ممکن بنایا۔

 

مگر مشاہد حسین سید سمجھتے ہیں کہ یہ حکمتِ عملی آگے چل کر نقصان دہ ثابت ہوگی، کیونکہ ایران ہرگز وینزویلا نہیں ہے، اور گرین لینڈ کا معاملہ مغربی اتحاد، نیٹو، اور امریکہ و یورپ کی شراکت داری پر گہرے اثرات ڈالے گا۔

 

ٹرمپ ایک نیا ورلڈ آرڈر لانا چاہتے ہیں

 

سینئر صحافی اور ماہرِ بین الاقوامی امور کامران یوسف کے مطابق بظاہر تو یہی لگ رہا ہے کہ ٹرمپ ایک نیا ورلڈ آرڈر لانا چاہتے ہیں۔ وہ اس طرح کے اقدامات سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ امریکہ آج بھی دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ جس طرح ٹرمپ نے وینزویلا پر حملہ کیا، اس سے اس بات کا امکان ہے کہ وہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

 

ٹرمپ یک طرفہ طور پر دنیا کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں

 

ڈاکٹر مراد علی یونیورسٹی آف مالاکنڈ میں بین الاقوامی امور کے پروفیسر  ہیں ان کے مطابق، پوری دنیا امریکی صدر ٹرمپ کے حوالے سے یہ سمجھتی ہے کہ وہ انتہائی غیر متوقع شخصیت ہیں اور ان کا اگلا قدم کیا ہوگا، کوئی اس بارے میں کچھ نہیں جانتا۔

 

پروفیسر مراد نے ایک اہم نکتے کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی پالیسی یہ ہوتی تھی کہ نرم لہجہ سمجھنے والوں کے ساتھ نرم لہجہ اور سخت لہجہ سمجھنے والوں کے ساتھ سخت لہجہ اپنایا جاتا تھا، لیکن صدر ٹرمپ کی پالیسی میں نرمی کے بجائے صرف سختی ہے۔

 

ڈاکٹر مراد کہتے ہیں کہ “صدر ٹرمپ دنیا کو یک طرفہ طور پر کنٹرول کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جو انتہائی خطرناک طرزِ عمل ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ اقدامات اس بات کا پیغام ہیں کہ سافٹ ڈپلومیسی کا دور اب نہیں رہا، بلکہ سب کچھ طاقت کے ذریعے حاصل کیا جائے گا، جس طرح وینزویلا کے معاملے میں نظر آیا۔”

 

ایران-امریکہ تنازع میں کمی کے لیے پاکستان کیا کردار ادا کر سکتا ہے

 

مشاہد حسین سید دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران-امریکہ جاری تنازع میں پاکستان ایک اہم اور مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ پاکستان اس خطے کا اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔ ان کے بقول، “دو ممالک یعنی پاکستان اور سعودی عرب، اور دو شخصیات یعنی پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی عرب کے وزیرِ اعظم محمد بن سلمان، اس جاری تنازع کو ختم کر سکتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ممالک اور شخصیات امریکہ اور ایران دونوں کے قریب ہیں اور دونوں کو قابلِ قبول ہیں۔”

 

کامران یوسف کا دعویٰ ہے کہ پچھلے سال جون میں ایران-اسرائیل جنگ، جس میں امریکہ بھی شامل ہو گیا تھا، کے دوران یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کیا تھا۔ 

 

پاکستان یہ جانتا ہے کہ ایران میں عدم استحکام کا اثر اس پر بھی پڑے گا، اس لیے پاکستان کی خواہش یہی ہے کہ ایران کے حالات مزید خراب نہ ہوں۔ موجودہ صورتحال میں یہ حیران کن نہیں ہوگا اگر پسِ پردہ پاکستان امریکہ-ایران کشیدگی کم کرانے میں کوئی کردار ادا کر رہا ہو۔

 

ایران-امریکہ جاری تنازع میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر مراد علی نے کہا کہ یہ ایران کا خالص اندرونی معاملہ ہے اور پاکستان اس میں ایک حد سے بڑھ کر کردار ادا نہیں کر سکتا، کیونکہ پاکستان کوئی عالمی طاقت نہیں بلکہ ایک مڈل علاقائی پاور ہے، جس کا کردار محدود ہے اور وہ دونوں کے درمیان محض ایک بیک چینل کردار ادا کر سکتا ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

 

ایران میں رجیم چینج کا پاکستان کے لیے کیا مطلب ہوگا

 

مشاہد حسین سید سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو ایران میں کسی بھی قسم کی رجیم چینج کی کارروائی کو مسترد کرنا اور اس کی مخالفت کرنی چاہیے، کیونکہ یہ ہماری قومی سلامتی اور قومی مفاد کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوگی۔

مشاہد حسین سید اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے تین جواز پیش کرتے ہیں۔ 

 

پہلا، ایران میں رجیم چینج کا مطلب یہ ہوگا کہ اسرائیل کی سرحد تفتان تک آ جائے گی، کیونکہ ایران میں کوئی بھی رجیم چینج اسرائیل نواز ہوگی، جس کا بھارت کے ساتھ مضبوط گٹھ جوڑ ہوگا۔ لہٰذا یہ پاکستان کے لیے ناقابلِ قبول ہے کہ بیک وقت اسرائیل، بھارت اور افغانستان پاکستان کی سرحدوں پر موجود ہوں۔

 

دوسرا، وہ سمجھتے ہیں کہ ایران میں کسی بھی قسم کی رجیم چینج بلوچستان کے تناظر میں پاکستان کے وفاق کے لیے خطرے کا باعث ہوگی، کیونکہ اگلی رجیم اسرائیل نواز ہوگی اور وہ بلوچستان کے ذریعے پاکستان کے وفاق کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

 

تیسرا، ان کے مطابق یہ رجیم چینج خطے میں طاقت کے توازن کو بدل دے گی، کیونکہ یہ کوئی پُرامن رجیم چینج نہیں ہوگی بلکہ اس سے عدم استحکام پیدا ہوگا، جس کے نتیجے میں غیر یقینی صورتحال، شدید اتار چڑھاؤ اور خطے میں تشدد میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے، لہٰذا اس کے ہر طرح کے منفی اثرات سامنے آئیں گے۔

 

کامران یوسف سمجھتے ہیں کہ ایران میں موجودہ حکومت کی تبدیلی کا پاکستان پر منفی اثر پڑے گا، کیونکہ ایک غیر یقینی صورتحال جنم لے گی۔ پاکستان کے پہلے ہی افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات خراب ہیں، اور ایران میں حکومت کی تبدیلی ہمارے مسائل میں اضافہ کرے گی۔

 

 اگر وہاں ایک ایسی حکومت قائم ہوتی ہے جس کا جھکاؤ اسرائیل کی طرف ہو، تو اس کے نتیجے میں بلوچستان کے حالات مزید خراب ہوں گے۔

 

ڈاکٹر مراد علی سمجھتے ہیں کہ ایران میں رجیم چینج سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی، کیونکہ افغانستان میں رجیم چینج سے بھی پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہو چکی ہیں۔ بھارت کے ساتھ بھی تعلقات خراب ہیں، تو ایسے میں بظاہر ایک محفوظ پاک-ایران سرحد پر تناؤ بڑھے گا۔

 

 وہ وضاحت کرتے ہیں کہ اگر ایران میں اسرائیل نواز یا امریکہ نواز حکومت آتی ہے تو اس سے پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہوگا، کیونکہ پہلے سے ہی بلوچستان کے حالات مخدوش ہیں۔ ڈاکٹر مراد کے مطابق ایران میں رجیم چینج کا لانگ ٹرم فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ رجیم چینج کے بعد ایران میں استحکام آنے اور پابندیاں ہٹنے کی صورت میں پاکستان کو تجارتی فوائد مل سکتے ہیں، لیکن اس کے امکانات انتہائی کم نظر آتے ہیں۔