خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں محکمہ صحت کی جانب سے کی گئی پیرامیڈیکل سٹاف کی بھرتیاں غیر قانونی قرار دے دی گئیں۔
محکمہ صحت کی دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ جمع کرا دی ہے، جس میں بھرتی کے عمل میں سنگین بے ضابطگیوں، قواعد کی خلاف ورزی اور میرٹ کی پامالی کا انکشاف کیا گیا ہے۔
کمیٹی رپورٹ کے مطابق 53 منظور شدہ اسامیوں پر 67 افراد کو بھرتی کیا گیا، جن میں سے صرف 14 امیدوار ہی ایٹا ٹیسٹ پاس کر سکے تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھرتی ہونے والوں میں 6 افراد غیر مقامی تھے، حالانکہ مقامی امیدواروں کی بڑی تعداد دستیاب تھی۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کی فہرست میں کسی بھی امیدوار کے تعلیمی نمبرز، ایٹا ٹیسٹ کے نتائج یا تجربے کے نمبرز درج نہیں تھے، جبکہ بعض بھرتی امیدواروں کے پاس متعلقہ ڈپلومہ یا مطلوبہ اہلیت بھی موجود نہیں تھی۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ بھرتی کا پورا عمل ایٹا اور محکمہ صحت کے درمیان طے شدہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔رپورٹ میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) پر کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار اور عدم تعاون کا بھی شکوہ درج کیا گیا ہے۔
دو رکنی کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ پیرامیڈیکل سٹاف کی مکمل بھرتی کو کالعدم قرار دیا جائے اور ڈی ایچ او کے خلاف خیبر پختونخوا گورنمنٹ سرونٹس رولز 2011 کے تحت فوری انضباطی کارروائی شروع کی جائے۔
واضح رہے کہ صوبائی اسمبلی کے رکن اور ڈیڈیک چیئرمین نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے خلاف باقاعدہ شکایت درج کروائی تھی، جس کے بعد محکمہ صحت نے معاملے کی تحقیقات کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
