وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پشاور ناردرن بائی پاس منصوبے سے متعلق اجلاس میں اہم پیش رفت ہوئی، جس میں صوبائی حکومت کی جانب سے منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے 3.9 ارب روپے بطور بریج فنانسنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

 

 اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ ناردرن بائی پاس پر دو انڈر پاسز اور ایک پل کی تعمیر کے لیے درکار ایک ارب روپے بھی صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔

 

این ایچ اے حکام نے اجلاس کو یقین دلایا کہ ناردرن بائی پاس منصوبہ جون 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک منصوبے پر 23.5 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں جبکہ مجموعی فنانشل پراگریس 85.6 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

 

 بریفنگ کے مطابق پیکج ون پر فزیکل پراگریس 100 فیصد مکمل ہو چکی ہے، پیکج ٹو 64 فیصد، پیکج تھری 86.6 فیصد جبکہ پیکج تھری اے پر 69 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

 

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ناکافی فنڈنگ اور تاخیر کے باعث 2010 سے اب تک منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا، جس سے صوبے کے ترقیاتی منصوبے بھی سست روی کا شکار ہیں۔

 

 انہوں نے واضح کیا کہ ناردرن بائی پاس عوامی مفاد کا منصوبہ ہے اور صوبائی حکومت اس کی بروقت تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف سفری سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ تجارتی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔

 

اجلاس میں مشیر خزانہ مزمل اسلم، ممبر نیشنل ہائی ویز، کمشنر پشاور اور متعلقہ صوبائی محکموں کے حکام نے شرکت کی اور منصوبے پر اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔