اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر لوئے شبانہ نے کہا ہے کہ پاکستان 2025 کا اختتام اور 2026 کا آغاز دنیا کے پانچویں سب سے زیادہ آبادی والے ملک کے طور پر کر رہا ہے، جہاں آبادی 25 کروڑ 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیز آبادی میں اضافہ، زیادہ شرحِ پیدائش، صنفی عدم مساوات اور ماحولیاتی خطرات پاکستان کے لیے سنجیدہ چیلنجز ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے آبادی کو بوجھ کے بجائے ترقی کا اہم ذریعہ سمجھنا ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق یو این ایف پی اے پاکستان کی جانب سے 2025 کے دوران جنسی اور تولیدی صحت و حقوق، آبادی سے متعلق ڈیٹا کے نظام، صنفی تشدد کے خاتمے اور نوجوانوں کے لیے اقدامات میں ہونے والی پیش رفت کو سراہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی اصلاحات، اعلیٰ سطحی عزم اور وفاق و صوبوں کے درمیان بہتر تعاون سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آبادی کو پاکستان کی ترقی کے مستقبل میں مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت کے باوجود کئی مسائل اب بھی موجود ہیں، جن میں زچگی کے دوران اموات، خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کی کمی، کم عمری کی شادیاں، صنفی تشدد اور دور دراز و متاثرہ علاقوں میں معیاری طبی سہولیات تک رسائی کا فقدان شامل ہے۔ ان مسائل کے باعث آبادی میں توازن اور یکساں ترقی متاثر ہو رہی ہے۔
یو این ایف پی اے کے نمائندے نے کہا کہ پاکستان کے پاس صلاحیت اور وسائل موجود ہیں، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ مضبوط حکمرانی، واضح توجہ اور مؤثر احتساب کے ذریعے اعلیٰ سطح پر کیے گئے وعدوں کو عوام کی زندگیوں میں بہتری میں بدلا جائے۔
یو این ایف پی نے زور دیا کہ خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، ہنر اور معاشی مواقع کے ساتھ ساتھ جنسی و تولیدی صحت میں سرمایہ کاری آبادی میں توازن اور پائیدار ترقی کے لیے سب سے مؤثر راستہ ہے، جس سے خاندان مضبوط اور معیشت مستحکم ہوتی ہے۔
2026 کے حوالے سےیو این ایف پی نے مطالبہ کیا کہ قومی منصوبہ بندی اور وسائل کی تقسیم، خصوصاً این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کو دیکھنے کا طریقہ تبدیل کیا جائے، جہاں صرف آبادی کے حجم کے بجائے صنفی برابری، صحت، تعلیم، ماحولیاتی تحفظ اور انسانی ترقی میں بہتری کو ترجیح دی جائے۔
یو این ایف پی اے نے مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات پر واضح ٹائم لائن اور احتساب کے ساتھ عملدرآمد، مقامی وسائل کی فراہمی اور مستند ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی پر بھی زور دیا۔
یو این ایف پی اے کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری جاری رکھے گا تاکہ تولیدی حقوق کے تحفظ، آبادی سے متعلق بہتر فیصلوں اور عوامی فلاح پر مبنی حل کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ 2026 وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کا سال بن سکتا ہے، جس سے پاکستان کے لیے ایک بہتر اور پائیدار مستقبل ممکن ہو سکے گا۔
