غلام اکبر مروت
 

لکی مروت کی علمی فضاؤں میں ایک دن ایسا بھی آیا جب برسوں پرانی یادیں پھر سے تازہ ہوئیں، چہرے شناسا مگر وقت کی جھریوں میں نکھرے ہوئے، اور ماحول میں استاد و شاگرد کے احترام و محبت کی خوشبو گھل گئی۔

 

میٹرک 1996 کے طلبہ نے اپنے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور پرانے تعلقات کو ازسرنو جوڑنے کے لیے ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا۔ اس پُرمحبت اور جذبات سے بھرپور محفل میں اساتذہ کرام اور سابق طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو اپنے وقت کے درخشاں ستارے تھے۔
تقریب میں ماہر تعلیم سابق خان ہو،پرنسپل فریداللہ خان ہو سلیم خان یا اکرام اللہ خان اور موسیٰ خان سب خوشی سے نہال تھے۔


شاگردوں میں ڈاکٹرمجاہدخان ہو ڈالٹر عرفان ہو یا ماہر تعلیم فقیر خان ہو یا نوید خان سب اساتذہ کو دیکھ کر ان کیلئے اپنی نگاہیں بچھا رہے تھے۔ 
 

تقریب کا مقصد صرف ملاقات نہیں تھا، بلکہ اس میں علم، تربیت، اور استاد کے کردار کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔ مقررین نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ کس طرح ایک استاد کی رہنمائی انسان کی شخصیت سازی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

 

شرکاء کی آنکھوں میں خوشی اور جذبات کی چمک نمایاں تھی، جب وہ اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کر رہے تھے۔ استاد اور شاگرد کے درمیان احترام و عقیدت کے جذبات نے تقریب کو یادگار لمحوں میں بدل دیا۔

 

یہ تقریب نہ صرف ماضی کے سنہرے لمحوں کو واپس لائی بلکہ معاشرتی اقدار، علم، اور رشتوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ یہ ثابت ہوا کہ وقت بدل جاتا ہے، مگر استاد و شاگرد کا رشتہ کبھی پرانا نہیں ہوتا، بلکہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط، باوقار اور لازوال بن جاتا ہے۔


یقیناً یہ یادگار لمحے آنے والے وقت کے لیے ایک نئی روایت اور نوجوان نسل کے لیے ایک مثال بن گئے۔اساتذہ کو ہار پہنائے گئے، تحائف دیئے گئے اور پرتکلف دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا۔