خیبر پختونخوا کے ضلع ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والا 23 سالہ آمین الحق برطانیہ کے علاقے لنکاشائر میں حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہو گیا۔
اطلاعات کے مطابق آمین اپنے طالب علم دوستوں کے ہمراہ ایک دریا عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ آدھے راستے میں ڈوب گیا، جبکہ اس کے دیگر ساتھی محفوظ رہے۔
آمین اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور بہتر مستقبل کے خواب لیے ورک ویزا پر برطانیہ آیا تھا۔ اہلِ خانہ کے مطابق آمین کی بیرون ملک روانگی کے لیے گھر والوں نے بڑی مالی قربانیاں دیں، یہاں تک کہ تقریباً 50 لاکھ روپے مالیت کا پلاٹ بھی فروخت کرنا پڑا۔
مقامی پولیس کے مطابق آمین لاپتہ تھا اور دو روز بعد اس کی لاش لنکاشائر کے دریا سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے کہا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں کسی مشتبہ واقعے کے شواہد نہیں ملے، تاہم اچانک اس سانحے نے خاندان، دوستوں اور پاکستانی کمیونٹی کو گہرے دکھ میں مبتلا کر دیا ہے۔
آمین کے اہلِ خانہ نے گریٹر مانچسٹر پولیس سے مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اکلوتے سہارا، واحد امید اور مستقبل کے مضبوط ستون کو کھو بیٹھے ہیں۔
