انصار یوسفزئی
23 دسمبر 2025ء کو وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چاہے تو حکومت مذاکرات کیلئے تیار ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کے نام پر کسی قسم کی بلیک میلنگ یا غیر قانونی اقدامات کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور بات چیت صرف آئینی اور قانونی امور پر ہی ہو سکتی ہے۔
وزیر اعظم کی طرف سے مذاکرات کی یہ آفر غیر متوقع سمجھا جا رہا ہے، کیوں کہ ابھی چند روز قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی جانب سے ایک سخت پریس کانفرنس سامنے آئی تھی، اور بعد ازاں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو ایک کیس میں 14 سال کی سزا بھی سنائی گئی۔
مذاکرات کیلئے وزیر اعظم کی آفر کو لے کر تحریک انصاف ایک بار پھر تقسیم نظر آرہی ہے۔ 23 دسمبر کو راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا کہ مذاکرات کی بات کرنے والے عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے نہیں ہیں، جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف میں ایک دھڑا سمجھتا ہے کہ مذاکرات کو ایک اور موقع دینا چاہئے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں چلنے والی تحریک تحفظ آئین پاکستان نے وزیر اعظم کی مذاکراتی آفر کا خیر مقدم کیا ہے۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مطابق آئین، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کیلئے بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔
مذاکرات کیلئے تحریک تحفظ آئین پاکستان کا مثبت جواب اور پی ٹی آئی میں علیمہ خان جیسے مضبوط دھڑے کی مخالفت سے محمود اچکزئی اور پی ٹی آئی کے آگے معاملات کیسے چلیں گے، اور مذاکرات کی میز پر تحریک انصاف کیلئے وزیر اعظم کی آفر میں مواقع اور چیلنج کیا ہوں گے، اس حوالے سے ٹی این این نے صحافیوں اور تجزیہ نگاروں سے بات کی ہے۔
مذاکرات کی آفر: نیا موقع یا چیلنج
سینئر صحافی و اینکر پرسن ماریہ میمن کے مطابق مذاکرات کیلئے وزیر اعظم شہباز شریف کی آفر ایک روایتی اور رسمی سی آفر ہے، جو ماضی قریب میں بھی کی جا چکی ہے،
لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان مذاکرات سے بات آگے بڑھے گی، یہ بظاہر ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا، کیوں کہ حکومت کے پاس مذاکرات کی میز پر تحریک انصاف کو دینے کیلئے کچھ خاص نہیں ہے، اسی طرح پی ٹی آئی بھی حکومت کو کوئی خاص فائدہ نہیں دے سکتی۔
پی ٹی آئی کیلئے چیلنج یہ ہے کہ مقتدرہ کے قریب سمجھنے جانے والے سیاست دانوں کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ یہ مذاکرات اگر ہوں گے تو سیاسی ہوں گے، جس میں عمران خان کی رہائی یا ان سے متعلق کسی بھی قسم کی بات نہیں ہوگی، جو تحریک انصاف کا بنیادی مطالبہ رہا ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ نگار حماد حسن سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کیلئے وزیر اعظم کی آفر کو لے کر پی ٹی آئی تقسیم ہے، ایک دھڑا مذاکرات کا حامی، جبکہ دوسرا دھڑا مخالفت کر رہا ہے،
لیکن ساتھ ہی وہ یہ خیال رکھتے ہیں کہ اس دوران پی ٹی آئی نے ایک اہم کارڈ یہ کھیلا ہے کہ ان کی طرف سے یہ بات سامنے آئی کہ ہم عمران خان کی رہائی یا کیسز واپسی پر بات نہیں کریں گے بلکہ آئینی ترامیم کے حوالے سے بات کریں گے۔ اس عمل سے پی ٹی آئی کو سیاسی فائدہ ملے گا۔
ایسا کرنے سے پی ٹی آئی نے مقتدرہ کو سرے سے سائیڈ لائن کردیا کہ ہم مقتدرہ سے بات ہی نہیں کرتے، جبکہ ساتھ ہی ن لیگ اور حکومت کیلئے بھی مشکل کھڑی کی۔ اب اگر ن لیگ مذاکراتی عمل سے پیچھے جائے گی تو سیاسی طور پر نقصان میں رہے گی۔
پی ٹی آئی کو مذاکرات کیلئے وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے ملنے والی آفر پر تجزیہ دیتے ہوئے سینئر صحافی ماجد نظامی نے کہا کہ جیل میں قید عمران خان کا ذہنی مریض والی ٹویٹ، ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ سخت پریس کانفرنس، اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو ملنے والی سزا کے بعد تحریک انصاف کی لیڈر شپ میں کہیں نہ کہیں یہ خیال موجود ہے کہ اگر عمران خان مفاہمت کے بجائے جیل میں رہنا چاہتے ہیں تو کیا اس کی قیمت پوری تحریک انصاف کو ادا کرنی پڑے گی،
یہ سوچ کر مذاکرات کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن پی ٹی آئی کے آگے چیلنج یہ ہے کہ ان کے جو سخت گیر موقف رکھنے والے رہنما ہیں یا سوشل میڈیا بریگیڈ یا باہر بیٹھے پی ٹی آئی کے ساتھی مذاکرات کے اس عمل کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے۔
پی ٹی آئی اور محمود اچکزئی کی الگ الگ رائے: جدائی کا سبب بنے گی
ماریہ میمن سمجھتی ہیں کہ عمران خان کے ٹریک ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ سیاسی قوتوں کے ساتھ زیادہ دیر چلنے کے روادار نہیں رہے، اور وہ کئی بار مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ بھی کر چکے ہیں۔
محمود اچکزئی اور عمران خان کے ساتھ چلنے کی بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ بظاہر عمران خان نے محمود اچکزئی کو بات آگے بڑھانے کا اختیار تو دیا ہے، لیکن آگے چل کر شائد دونوں کے سیاسی مقاصد اور راستے الگ ہو جائیں۔
حماد حسن کے مطابق پی ٹی آئی کی پولیٹیکل کمیٹی تو موجود ہے، لیکن اس وقت پارٹی پر قبضہ علیمہ خان کا ہے، جس کی وجہ سے ایک دراڑ موجود ہے۔ یہی دراڑ محمود اچکزئی اور علیمہ خان کے درمیان بھی موجود ہے۔
اچکزئی اپنی پریس کانفرنس میں مذاکرات اور مفاہمت کی بات کرتے ہیں، جبکہ علیمہ خان آ کر ان کا بیانیہ اڑا دیتی ہیں۔ عمران خان اور ان کی بہنوں کے مزاج کے ساتھ محمود اچکزئی جیسے آدمی کا زیادہ دیر چلنا بہت مشکل ہے۔
ماجد نظامی کہتے ہیں کہ حکومت سے مذاکرات پر فی الحال تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان میں اگر چہ اختلاف موجود ہے، لیکن ان کی رائے ایک دوسرے سے اتنی مختلف نہیں کہ ایک دوسرے سے راستے الگ کریں۔
مولانا فضل الرحمن اور پی ٹی آئی کے درمیان مارجن کم تھا، کیوں کہ مولانا فضل الرحمن سمجھتے تھے کہ عمران خان ایسی شخصیت ہیں کہ جن کے الفاظ یا افکار کے حوالے سے کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی،
جبکہ محمود اچکزئی کے پاس ابھی مارجن موجود ہے کہ اگر وہ چاہے تو اس معاملے کو آگے بڑھا سکتے ہیں، کیوں کہ ابھی دونوں کے درمیان اتنی بد اعتمادی نہیں کہ محمود اچکزئی راستے الگ کریں۔
عمران خان کی سٹریٹ موومنٹ محض دھمکی یا حقیقت
سینئر صحافی حماد حسن کا خیال ہے کہ مذاکرات کے ساتھ سٹریٹ پاور کی دھمکی در اصل اس لیے دی گئی تاکہ مذاکرات کی آڑ میں ہمیں کوئی ریلیف ملے۔
لیکن اہم بات یہ ہے کہ 26 نومبر 2024ء کی احتجاجی تحریک کے بعد پی ٹی آئی کی سٹریٹ پاور گر چکی ہے، اب ان کی پاور صرف سوشل میڈیا پر موجود ہے، گراؤنڈ پر پی ٹی آئی اس پاور سے محروم ہے۔
ماریہ میمن کے خیال میں اس وقت کسی بھی قسم کی سٹریٹ موومنٹ کے چلنے کا امکان ہے، نہ ہی کوئی گنجائش نظر آرہی ہے، کیوں کہ آگے رمضان بھی قریب ہے، اور دوسرا پی ٹی آئی کے ورکر سٹریٹ موومنٹ جیسی سرگرمیوں سے تھکاوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ وہ ووٹ ڈالنے تو آئیں گے، لیکن وہ اب شائد سڑکوں پر نظر نہ آئیں۔
سٹریٹ موومنٹ: پی ٹی آئی کی امیدیں سہیل آفریدی سے وابستہ
ماجد نظامی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سٹریٹ پاور یا موومنٹ کا آپشن بالکل موجود ہے، اور سہیل آفریدی کو آگے لانے کا مقصد ہی یہی تھا۔ تحریک انصاف ان کے احتجاجی تحریک کے اوپر بڑا انحصار کر رہی ہے، کیوں کہ علی امین گنڈاپور کے حوالے سے کہا جاتا تھا کہ وہ کمپرومائزڈ ہیں۔
لیکن تحریک انصاف سہیل آفریدی کو احتجاج کا موقع دینے سے پہلے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے ایک دو قدم پیچھے جائے گی تاکہ سیاسی درجہ حرارت میں کمی آئے، لیکن ایسا نہیں ہوتا تو پھر سہیل آفریدی کی تحریک چلانے کا آپشن موجود رہے گا۔
