پاراچنار میں پاک افغان خرلاچی بارڈر گزشتہ ڈھائی ماہ سے بند ہے، جس کے باعث سرحد کے دونوں جانب تجارت اور آمدورفت مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ سرحد کی بندش سے تاجر اور مزدور شدید مشکلات کا شکار ہیں اور بے روزگاری میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

 

ضلعی انتظامیہ کے مطابق افغانستان کی جانب سے جارحیت کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر خرلاچی بارڈر بند کیا گیا تھا، جو تاحال نہیں کھل سکا۔ بارڈر کی بندش کے باعث اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل رک گئی ہے، جس سے دونوں جانب مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

 

تاجر رہنما ملک سرتاج کا کہنا ہے کہ خرلاچی بارڈر کے ذریعے افغانستان سے فروٹ، ڈرائی فروٹ اور کوئلہ پاکستان آتا تھا جبکہ پاکستان سے سیمنٹ، مال مویشی اور روزمرہ استعمال کی اشیاء افغانستان بھیجی جاتی تھیں۔ بارڈر بند ہونے سے یہ تمام تجارتی سرگرمیاں ختم ہو چکی ہیں اور سینکڑوں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔

 

تاجر برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاک افغان خرلاچی بارڈر کو تجارت کے لیے فوری طور پر کھولا جائے تاکہ معاشی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور سیکیورٹی حالات بہتر ہونے پر سرحد کھولنے کے فیصلے پر غور کیا جائے گا۔

 

واضح رہے کہ خرلاچی بارڈر کے علاوہ چمن اور تورخم بارڈر سمیت دیگر اہم پاک افغان سرحدی گزرگاہیں بھی بند ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور عوامی روابط شدید متاثر ہو رہے ہیں۔