خولہ زرافشاں
باہر سے یہ پیشہ جتنا دلکش اور شاندار نظر آتا ہے، حقیقت میں اتنا ہی مشکل، محنت طلب اور دباؤ سے بھرپور ہے۔ مسلسل سفر، غیر معمولی اوقاتِ کار، ہر لمحہ ذمہ داری کا بوجھ اور سماجی تنقید سب کچھ اس چمک دمک کے پیچھے چھپا ہوتا ہے، مگر پھر بھی یہ پیشہ خواتین کو عزت، خود اعتمادی اور ایک منفرد پہچان دیتا ہے۔
ائیر ہوسٹس بننا بظاہر ایک نہایت پرکشش اور خوبصورت پیشہ محسوس ہوتا ہے، لیکن اس شعبے میں کام کرنے والی خواتین نہ صرف مسافروں کی سہولت اور حفاظت کی ذمہ دار ہوتی ہیں بلکہ دورانِ پرواز ہر مشکل صورتِ حال میں خود کو مضبوط رکھتے ہوئے دوسروں کے حوصلے بھی بلند رکھتی ہیں۔
مسافروں کی رہنمائی، ان کی خدمت، حفاظتی اقدامات پر عمل کروانا اور مشکل حالات میں بھی خوش اخلاقی برقرار رکھنا اس پیشے کی بنیادی پہچان ہے۔
ہمارے معاشرے میں اب بھی ائیر ہوسٹس کے بارے میں کئی غلط فہمیاں موجود ہیں۔ بعض خاندان اسے خواتین کے لیے مناسب نہیں سمجھتے، کچھ “لوگ کیا کہیں گے” کے خوف میں بیٹیوں کے راستے روک دیتے ہیں، رات کی ڈیوٹیز، غیر یقینی شیڈول اور یونیفارم تک تنقید کا نشانہ بنتا ہے۔
مسلسل سفر، جسمانی تھکن، نیند کی کمی اور خاندان سے دوری اس ذمہ داری کو مزید مشکل بنا دیتی ہے، مگر ائیر ہوسٹس اپنے وقار اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ یہ سب برداشت کرتی ہیں۔
میری کہانی بھی اسی دنیا سے جڑی ہے مگر مختلف اس لیے کہ مجھے اپنے گھر والوں کا ساتھ ملا۔ گاؤں کی ایک عام سی لڑکی ہونے کے باوجود میرے بابا نے نہ صرف میرا حوصلہ بڑھایا بلکہ مجھے اپنی خواہش پوری کرنے کی اجازت بھی دی۔
یہ سال 2001 تھا جب میں نے پی آئی اے میں بطور ائیر ہوسٹس اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی شروعات کی۔ میں نے جذبے سے یہ پیشہ اختیار کیا اور ایک سال سے زائد عرصہ خدمات انجام دیں، عزت ملی، اعتماد ملا اور اس کام نے مجھے اندر سے مضبوط بنایا۔
لیکن پھر زندگی نے ایک ایسا موڑ لیا جس نے سب بدل دیا، کچھ عرصہ بعد پروازوں کے دوران میری طبیعت خراب رہنے لگی۔ ابتدائی دنوں میں میں زیادہ تر ڈومیسٹک پروازوں پر تھی، مگر مسلسل طبیعت بگڑنے پر میرا میڈیکل معائنہ ہوا۔
اسی دوران ڈاکٹرز نے مجھے دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کی تشخیص کی، جس کے باعث میرے لیے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں نبھانا مشکل ہو گیا اور آخرکار مجھے مجبوراًاپنی ملازمت چھوڑنی پڑی۔
یہ فیصلہ میرے لیے آج بھی دکھ کا باعث ہے، مگر یہ سفر مختصر ہونے کے باوجود میرے لیے بے حد خوبصورت اور یادگار رہا۔
آج بھی میں اس شعبے سے وابستہ ہر خاتون کے لیے دل سے احترام رکھتی ہوں، کیونکہ ائیر ہوسٹس بننا صرف ایک نوکری نہیں بلکہ حوصلہ، ہمت، قربانی اور لگن کا نام ہے۔ ان خواتین کو سلام جو مشکل حالات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں نبھاتی ہیں۔
