وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وزراء کو ہدایت کی کہ ہر 15 دن بعد اپنے اضلاع کے فیلڈ وزٹس کریں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور مؤثر چیک اینڈ بیلنس قائم ہو سکے۔

 

انہوں نے آئندہ کابینہ اجلاس میں گڈ گورننس روڈ میپ پر بریفنگ اور چیف سیکرٹری سے پیش رفت کی تفصیلی بریفنگ لینے کا بھی اعلان کیا۔

 

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی کے تحت وعدہ شدہ فنڈز مالی سال 2025-26 میں تاحال جاری نہیں کیے گئے، جس کے باعث قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کام متاثر ہو رہے ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود صوبائی حکومت عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

 

سہیل آفریدی نے وفاقی اور پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان، ان کی اہلیہ اور بہنوں کے ساتھ غیر انسانی اور غیر جمہوری سلوک کیا جا رہا ہے۔

 

 منگل کے روز واٹر کینن میں مبینہ زہریلے کیمیکل کے استعمال اور پرامن کارکنان و پارلیمنٹیرینز پر تشدد کو جمہوری روایات کے خلاف قرار دیا۔

 

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت عوامی فلاح کے بجائے سیاسی انتقام پر توجہ دے رہی ہے، جس سے جی ڈی پی گروتھ، زرعی پیداوار اور صنعتی ترقی کے اشاریے مسلسل نیچے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت عوام کی بہتری کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔