پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم بارڈر 50 روز کی طویل بندش کے بعد آج انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کھولے جانے کا امکان ہے۔ سرحدی کشیدگی کے باعث یہ اہم تجارتی گزرگاہ ڈیڑھ ماہ سے مکمل طور پر بند تھی، جس کے نتیجے میں دونوں اطراف سیکڑوں کارگو گاڑیاں پھنس گئیں۔
بارڈر کی بندش نے پاکستانی ڈرائیورز اور ٹرک مالکان کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا، جبکہ افغان جانب بھی تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں، جس سے دوطرفہ معیشت متاثر ہوئی۔
پاکستان سے افغانستان کو سیمنٹ، ادویات، پھل اور سبزیاں برآمد کی جاتی ہیں، جبکہ افغانستان سے پاکستان کوئلہ، خشک میوہ جات اور تازہ پھل درآمد کرتا ہے۔
طویل بندش کے باعث یہ تجارتی عمل بری طرح متاثر ہوا اور سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔
سرکاری اور سرحدی ذرائع کے مطابق انسانی بنیادوں پر بارڈر کھولنے پر غور جاری ہے، مگر مکمل تجارتی بحالی کا حتمی فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جزوی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی سے متعلق اعلان بھی جلد کیا جا سکتا ہے، جبکہ مستقل بنیادوں پر بحالی کا فیصلہ آنے والے دنوں میں کیا جائے گا۔
بارڈر کے ممکنہ کھلنے سے پھنسے ہوئے شہریوں، ڈرائیورز اور کارگو ٹرانسپورٹ کو عارضی ریلیف ملنے کی توقع ہے، تاہم مکمل تجارتی معمولات کے لیے باقاعدہ حکومتی احکامات کا انتظار ہے۔