نوشہرہ کے علاقے خیرآباد میں پولیس اہلکاروں پر افغان مہاجر کو بلاجواز حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پولیس چوکی خیرآباد کے محرر ماجد عمر اور افغان سہولت کار ملا بہادر نے افغان مہاجر عبدالواحد کو بغیر کسی جرم کے حراست میں لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔
متاثرہ شخص عبدالواحد کے مطابق اسے چوکی کی حوالات میں بند کر کے برہنہ حالت میں اذیت دی گئی، یہاں تک کہ سرینج کے ذریعے سرخ مرچ جائے مخصوصہ میں داخل کی گئی جبکہ آگ اور پانی سے جسم کو جلایا گیا۔
عبدالواحد نے انصاف کے لیے تھانہ آکوڑہ خٹک میں درخواست دی، جس پر پولیس نے ماجد عمر اور ملا بہادر کے خلاف دفعہ 342، 348، 355 تعزیراتِ پاکستان اور خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ کی دفعہ 19-D کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس لائن ذرائع کے مطابق محرر ماجد عمر کو فوری طور پر معطل کر کے انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
مدعی عبدالواحد کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان منتقل ہونے کے لیے چند دن کے لیے خیرآباد افغان مہاجر کیمپ میں عارضی طور پر مقیم تھا کہ اسی دوران اسے بلاجواز حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اس نے اعلیٰ حکام سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
