خیبرپختونخوا میں خواجہ سرا برادری کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ضلع لکی مروت میں پیر کی شب نامعلوم مسلح افراد نے دو خواجہ سراوں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ سرائے نورنگ سبزی منڈی کے قریب واقع ایک مارکیٹ میں پیش آیا۔ جاں بحق خواجہ سراوں کی شناخت ذاکر اور ڈالر کے ناموں سے ہوئی ہے۔
تھانہ سرائے نورنگ کے ایس ایچ او عامر خان کے مطابق فائرنگ کا واقعہ خواجہ سراوں کے دیرے پر پیش آیا۔ پولیس نے دوہرے قتل کی ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم واقعے کی وجوہات اور ملزمان کی شناخت تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ
خیبرپختونخوا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران خواجہ سراوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رواں برس 8 جولائی کو پشاور کے تہکال پلازہ میں نامعلوم افراد نے خواجہ سرا اسد کو قتل کیا، جبکہ یکم جولائی کو گلبہار کے علاقے میں تتلی نامی خواجہ سرا کو مبینہ طور پر دوستی سے انکار پر گولی مار دی گئی۔
تحفظ کے وعدے، عمل کہیں نہیں
خواجہ سراوں کے حقوق کے لیے سرگرم منزل فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن آرزو خان کے مطابق 2025 کے دوران اب تک 12 خواجہ سرا قتل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 2015 سے اب تک صوبے بھر میں 163 خواجہ سرا اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
آرزو خان کا کہنا ہے کہ حکومت اور ادارے خواجہ سرا برادری کو تحفظ دینے میں ناکام رہے ہیں۔
جب خواجہ سرا زندہ ہوتے ہیں تو ان کے والدین ان سے لا تعلقی اختیار کرتے ہیں، لیکن جب وہ قتل کر دیے جاتے ہیں تو وہی والدین ملزمان سے صلح کر لیتے ہیں۔ اس طرح انصاف کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔ اگر ایک گرو کیس چلانا بھی چاہے تو والدین کے فیصلے کے سامنے وہ بے بس ہو جاتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ عدالتیں والدین کی جانب سے صلح کے معاہدوں کو قبول نہ کریں، مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے، اور خواجہ سراوں کے تحفظ کے لیے مؤثر پالیسی تشکیل دی جائے۔
پولیس کی ناقص تفتیش اور سزا کا فقدان
انسانی حقوق کے کارکن تیمور کمال کے مطابق خواجہ سراوں پر بڑھتے حملوں کی ایک بڑی وجہ پولیس کی ناقص تفتیش اور کمزور ایف آئی آرز ہیں۔
جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی تحقیقات مضبوط نہیں کرتے اور عدالتیں سخت فیصلے نہیں سناتیں، اس تشدد کے سلسلے کو روکنا ممکن نہیں۔
تشدد کا پھیلتا دائرہ
خیبرپختونخوا کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی خواجہ سراوں کے خلاف پرتشدد واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔
ستمبر 2025 میں کراچی میں نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے تین خواجہ سراوں کو قتل کر دیا تھا۔
خواجہ سرا برادری کا کہنا ہے کہ اگر ریاستی سطح پر واضح اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ سلسلہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
