پشاور کی احتساب عدالتوں نے اپر کوہستان میں 37 ارب روپے سے زائد کی مبینہ خرد برد کے کیس میں گرفتار آٹھ ملزمان کو 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
نیب خیبرپختونخوا کے مطابق جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد پانچ ملزمان کو جج امجد ضیا صدیقی اور تین کو جج علی گوہر کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالتوں نے تمام آٹھوں ملزمان کو 14 دن کے عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کئے۔
جج امجد ضیا صدیقی کی عدالت میں پیش کئے گئے ملزمان میں کوہستان اکاؤنٹس آفس کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر الفت علی، مرکزی ملزم عمران خان کے رشتہ دار، کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو) ڈیپارٹمنٹ کے جونیئر کلرک عبدالباسط، سید بلال شاہ اور سید معیز حیدر شامل ہیں۔
جبکہ جج علی گوہر کی عدالت میں پیش ہونے والے دیگر تین ملزمان میں اکاؤنٹس آفس کا اہلکار شیر باز، ٹھیکیدار سرتاج خان، اور مرکزی ملزم فہیم معین خان کا رشتہ دار شامل تھا۔
اس سے قبل کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کلرک اور مرکزی ملزم قیس اقبال اور ان کی اہلیہ کو بھی جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد جیل بھیجا جا چکا ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق اب تک اس کیس میں 27 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اپر کوہستان میں سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے اکاؤنٹس آفس اور نیشنل بینک کے افسران کے ساتھ ملی بھگت کر کے قومی خزانے سے جعلی نکاسیاں کیں۔
یہ رقوم مختلف منصوبوں اور ایسے ٹھیکیداروں کے نام پر نکلوائی گئیں جنہوں نے کوئی کام سرے سے نہیں کیا تھا۔ حکام کے مطابق مرکزی ملزم سمیت کئی افراد نے اکاؤنٹ نمبر G-10113 سے ٹھیکیداروں کی سیکیورٹی ڈپازٹ کے نام پر 37 ارب روپے سے زائد رقم غیر قانونی طور پر نکلوائی۔
نیب کے مطابق ملزمان نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے جعلی دستاویزات تیار کیں اور انہی کی بنیاد پر قومی خزانے سے خطیر رقم وصول کی۔ اس سکینڈل میں اکاؤنٹس آفس، سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ، بینکوں کے افسران اور متعدد نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
عدالت نے اب تک نیب کی جانب سے دیے گئے کئی احکامات کی توثیق کرتے ہوئے درجنوں جائیدادیں منجمد کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔ ان میں رہائشی مکانات، کمرشل پلازے، قیمتی پلاٹس، گاڑیاں، نقدی اور غیر ملکی کرنسی شامل ہیں۔
منجمد کی گئی 38 جائیدادیں ایک اور اہم ملزم محمد ریاض اور ان کے رشتہ داروں کی بتائی گئی ہیں۔ محمد ریاض، جو پہلے بینک میں کیشیئر تھے، بعد ازاں ٹھیکیدار بن گئے۔ استعفیٰ دینے کے بعد انہوں نے اپنے چھ بھائیوں کے نام پر تعمیراتی کمپنیاں قائم کیں اور بعد میں ان سب کو اپنے نام پر رجسٹر کروا لیا۔
