عبدالستار
مردان کے ایڈیشنل سیشن جج زاہد کریم خلیل نے 9 سالہ ماہم قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم اختر حسین کو قتل، زیادتی اور اغواء کا جرم ثابت ہونے پر تین مرتبہ سزائے موت اور مجموعی طور پر 16 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم کو اس وقت تک سولی پر لٹکایا جائے جب تک اس کی موت کی تصدیق نہ ہو جائے۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو سرکاری طور پر مجرم کی زمین فروخت کر کے رقم وصول کی جائے۔
یہ واقعہ 26 مارچ 2020 کو مردان کے علاقے جان آباد میں پیش آیا تھا، جب چوتھی جماعت کی طالبہ ماہم محلے کی دکان سے صابن لینے گئی اور لاپتہ ہوگئی۔ اگلے روز بچی کی بوری بند لاش نہر سے برآمد ہوئی۔
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور شواہد کی مدد سے تحقیقات آگے بڑھائیں اور ملزم اختر حسین کو گرفتار کیا۔ دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے بچی کو بہانے سے گھر لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں قتل کر کے لاش کو بوری میں بند کر کے نہر میں پھینک دیا۔ بعد میں وہ ورثاء کے ساتھ تلاش میں بھی شریک رہا تاکہ شک نہ گزرے۔
تحقیقات میں بچی کی ایک چپل جو مجرم کے بیڈ کے نیچے سے ملی تھی اور بوری کی شناخت جس کی گواہی دکاندار نے دی سمیت ٹھوس شواہد عدالت میں پیش کیے گئے۔ وکیل استغاثہ اسد علی خان نے دلائل دیتے ہوئے جرم ثابت کیا جس پر عدالت نے مجرم کو سزائیں سنائیں۔
یاد رہے کہ کیس کی تفتیش اور ملزم کی گرفتاری میں اس وقت کے ڈی پی او مردان اور موجودہ ڈی آئی جی بنوں سجاد خان اور ایس ایچ او عجب درانی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔