رضوان اللہ
جنوبی وزیرستان اپر میں عوامی مسائل کے حل کے لیے پہلی بار ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی (ڈی آر سی) قائم کر دی گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ارشد خان کے مطابق سراروغہ اور سرواکئی میں ڈی آر سی کے دفاتر بنائے گئے ہیں جبکہ سراروغہ میں کمیٹی کے اراکین سے حلف بھی لیا گیا اور سیکریٹریز کا انتخاب مکمل کر لیا گیا ہے۔
ڈی پی او کے مطابق کمیٹی میں ججز کے پانچ پینلز بنائے گئے ہیں، جو ہفتے میں پانچ دن کام کریں گے، جمعہ اور ہفتہ تعطیل ہوگی۔ اراکین کو تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی آر سی کا مقصد عوامی مسائل کو شفاف اور انصاف پر مبنی طریقے سے حل کرنا ہے تاکہ عدالتی بوجھ کم ہو اور عوام کو فوری انصاف فراہم ہو۔
ارشد خان نے ڈی آر سی ممبران کے ساتھ تعارفی نشست کے دوران کہا کہ جرگہ سسٹم نے ماضی میں بہت پیچیدہ تنازعات مقامی رسم و رواج کے مطابق پرامن انداز میں حل کیے ہیں، اسی روایت کو آگے بڑھانے کے لیے یہ کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ اس موقع پر نئے سیکریٹری کا انتخاب بھی اتفاقِ رائے سے کیا گیا۔
کمیٹی کے رکن ملک حاجی رمتل محسود نے کہا کہ ڈی آر سی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ عدالت جانے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے اور غریب عوام کو ریلیف ملتا ہے کیونکہ وہ عدالت کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق مخلص اراکین کی بدولت کئی برسوں سے حل نہ ہونے والے مسائل دنوں میں نمٹائے جا سکتے ہیں۔
سوشل ورکر عارف زمان برکی نے کہا کہ جرگہ سسٹم قبائلی علاقوں میں ہمیشہ مقدم رہا ہے کیونکہ زمینوں اور قتل کے مقدمات جرگوں کے ذریعے جلدی نمٹ جاتے ہیں، جبکہ عدالتوں میں دیوانی مقدمات برسوں تک چلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرگہ میں فریقین خود اپنا موقف پیش کرتے ہیں جس سے انہیں دلی اطمینان ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ اس نظام پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈی آر سی نظام بہتر ہے لیکن اس کی مضبوطی اس وقت ممکن ہے جب اراکین کا انتخاب شفاف اور میرٹ پر ہو۔ اگر کمیٹی میں ایسے افراد شامل ہوں جو اثر و رسوخ رکھتے ہوں اور اخلاص سے فیصلے کریں تو یہ نظام عوام کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے میں ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔