ٹی این این اردو - TNN URDU Logo
بڑھتی ہوئی بیروزگاری،پشاور میں بائیک سروس میں حیران کن حد تک اضافہ Home / سٹیزن جرنلزم,عوام کی آواز /

بڑھتی ہوئی بیروزگاری،پشاور میں بائیک سروس میں حیران کن حد تک اضافہ

سپر ایڈمن - 09/08/2025 255
بڑھتی ہوئی بیروزگاری،پشاور میں بائیک سروس میں حیران کن حد تک اضافہ

محمد سلمان
 

پشاور شہر کے ہر گلی کوچے،چوک اور مین شاہراہوں پر سروں پر سبز ہیلمٹ پہنے" بائیک سروس " دیکھنے کو ملے گی۔ یہ سروس رکشہ اور ٹیکسی کے مقابلے میں تقریبا آدھی قیمت پر آپ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے میں سروس مہیا کر رہی  ہیں۔ شہر میں بڑھتی ہوئی  بائیک سروس کی ایک بڑی وجہ بے روزگاری ہے، جس کے باعث بے روزگار طبقہ کی ایک بڑی تعداد نے یہ سروس شروع کر رکھی ہے۔جس سے وہ اپنے خاندان کے لیے روزی کمانے میں مصروف ہے۔

 

پشاور میں سب سے پہلے آن لائن سروس" کریم " کے نام سے شروع ہوئی تھی، جو موبائل سے آن لائن منگوائی جاتی تھی۔ کریم یعنی موٹر کار سروس کی عوام میں زبردست پذیرائی کے بعد کریم نے آن لائن موٹر بائیک سروس بھی شروع کر دی، جس کے تھوڑے عرصے بعد پھر " ان ڈرائیو " سروس بھی میدان میں آگئی۔ اب صورتحال قدر مختلف ہو گئی ہے آن لائن کے جھنجھٹ سے چھٹکارا پانے کے لیے براہ راست  بائیک سروس شروع ہو گئی ہے جو با آسانی آپ کو ہر جگہ مل جاتی ہے۔

 

بائیک ڈرائیور کے تاثرات

 

مراد کے مطابق انہوں نے یہ کام بہت مجبوری کے تحت شروع کیا، انکا کہنا ہے کہ اخراجات اتنے ہیں کہ پورے ہی نہیں ہوتے اب تو حالات ایسے ہیں کہ گھر کا کرایہ پورا کریں ،بجلی کا بل دیں یا پھر گھر کا کچن چلائے۔ ایسے میں ہمارے پاس اس کام کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی جاب ہے، جب چاہے گھر سے نکل آئے اور جب چاہے آرام کریں ۔بہرحال اس جاب سے تھوڑا بہت ریلیف ملی ہے۔

 

غازی اور طائف الرحمان نے بھی کچھ ملا جلا رد عمل دیا اور کہا کہ مجبوری بہت بری چیز ہے، اس سے قبل ہم کہیں اور کام کرتے تھے۔ لیکن اس تنخواہ میں گزارا کرنا انتہائی مشکل ہو گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم تو مکمل بے روزگار ہیں۔ اسی وجہ سے اس روزگار سے وابستہ ہو گئے ہیں۔ لیکن ہم آپ کو ایسے سینکڑوں بندوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں، جو صبح سرکاری جاب کرتے ہیں اور دوپہر کے وقت یہ بائیک چلاتے ہیں۔ سرکاری جاب کے ہوتے ہوئے بھی ان کا گزارا مشکل ہے تو پھر ہمارا گزارا کیسے ہوگا۔

 

رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیورز کے تاثرات 

 

رکشہ ڈرائیور اویس نے ٹی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات سے بالکل متفق ہے کہ بائیک سروس کے شروع ہونے کے بعد ان کی مزدوری میں کافی بدلاؤ آیا ہے۔ پہلے جب میں 12 گھنٹے رکشہ چلاتا تھا تو اس میں 3 ہزار روپے تک مزدوری ہو جاتی تھی۔ اب یہ مزدوری کم ہو کر 1500 تک آگئی ہے۔   مرد حضرات بمشکل ہی ہمارے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ اسی لیے اب مردوں کی سواری سے زیادہ ہماراانحصار خواتین پر ہوتا ہے کیونکہ بائیک پر ان کا جانا ممکن نہیں۔

 

ایک اور ضروری بات انہوں نے کہی کہ اس بائیک سروس میں جرائم پیشہ عناصر  آ چکے ہیں۔ چند ہی دنوں پہلے کی بات ہے کہ رنگ روڈ پر ایک سواری کی جب مجھ سے کرایہ پر بات نہ بنی تو اس نے  بائیک کا انتخاب کیا۔ اتفاق سے وہ بندہ جس جگہ جا رہا تھا وہاں سے میرا بھی گزر تھا، تھوڑا آگے جا کر میں نے اس سواری کو دیکھا اور ان سے پوچھا کہ تم جس جگہ جا رہے ہو وہ جگہ تو کافی آگے ہے، تو اس نے بہت ہی افسردہ لہجے میں مجھے بتایا کہ بائیک ڈرائیور نے مجھے راستے میں لوٹ لیا یعنی یہاں اس کہانی بتانے کا مقصد یہ ہے کہ سواری اپنے دو روپے بچانے کے چکر میں ہوتی ہے، لیکن ان میں کون اچھا ہے اور کون برا اس کا پتہ لگانا مشکل ہے۔

 
سرکی گیٹ میں کھڑے ایک اور رکشہ ڈرائیور نادر خان نے کہا کی بی آر  ٹی نے ہمیں اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا نقصان ہمیں ان بائیک ڈرائیور سے ملا ہے۔ میرا دل اندر سے دیکھنے کے قابل ہے، یعنی یہ لوگ 50 روپے پر بھی سواری کو اپنے ساتھ بٹھا لیتے ہیں ہمیں 50 اور 100 روپے میں بالکل بھی گزارا نہیں ہوتا ۔موٹر سائیکل کے مقابلے میں رکشہ کی مرمت پر ہزاروں روپے خرچ ہوتے ہیں ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے ایک سسٹم بنایا جائے ورنہ آنے والے دنوں میں ان کی تعداد میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔


ٹیکسی ڈرائیور جان گل نے کہا کہ ہمارا کام پہلے پیٹرول کی بڑھتی  ہوئی قیمتوں اور پھر بی آر ٹی کے باعث بہت خراب ہے۔ اب رہی سہی کسر ان بائیک نے پوری کر دی سارا سارا دن ہم سواریوں کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ ان کے ہوتے ہوئے ہمارا کام بہتر ہونے والا نہیں کیونکہ دن بدن ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 

شہریوں کا رد عمل


شفیق کے مطابق ہر کوئی اپنے دو روپے بچانے کے چکر میں ہوتا ہے ، رکشہ والوں نے ریٹس اتنے بڑھا دیے ہیں کہ ان کے ساتھ جانا ناممکن ہو گیا ہے۔ وہ قریبی جگہ کے بھی آپ سے 200 روپے چارج کرنے کا مطالبہ کرتا ہے ۔لیکن بائیک والا اسی جگہ آپ کو 100 روپے میں لے جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ بائیک سروس کی یہ بڑی خوبی ہے کہ ان کے ریٹس کم ہیں۔

 
اظہر علی نے بتایا کہ  بائیک سروس کی دو بڑی خوبیاں ہیں، ایک سستے ریٹس اور دوسرا بھاری ٹریفک جیم میں بھی یہ اپنے لیے جگہ بنا کر وہاں سے نکل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ رکشہ والے اپنے ریٹس کم کریں ورنہ وہ دن دور نہیں جب صرف خواتین ہی انہی کی سواریاں رہ جائیں گی۔