پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کی روک تھام کے لیے اقدامات تیز، 2050 تک 8 لاکھ 50 ہزار اموات اور 11 لاکھ نئی متاثرین سے بچاؤ کا ہدف
وزارتِ صحت پاکستان اور عالمی ادار ہ صحت نے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس مقصد کے تحت 2050 تک ملک میں 8 لاکھ 50 ہزار اموات اور 11 لاکھ نئے متاثرین کو بچانے کی کوشش کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدامات وزیراعظم کے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے قومی پروگرام کے تحت کئے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت ہونے والی تقریب میں اس مشن کا اعلان کیا گیا۔ وزیر صحت نے کہا کہ یہ صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک عزم ہے۔ جب پاکستان کے صحت کے نظام کی بات آتی ہے تو ہمیں ہر وہ کام کرنا ہے جو کل کیا جانا چاہیے تھا، لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔ ہم فوری طور پر کام کا آغاز کریں گے۔
عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر وزارت صحت اور ڈبلیو ایچ او نے قومی اور بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ ایک اجلاس کا انعقاد کیا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہیپاٹائٹس کی روک تھام پر کی جانے والی ہر سرمایہ کاری کے بدلے میں 11 ڈالر کا معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
اجلاس کے دوران پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق اگر وزیراعظم پروگرام موثر انداز میں نافذ کیا جائے تو 2030 تک 1 لاکھ 50 ہزار جانیں بچائی جا سکتی ہیں، 2 لاکھ 10 ہزار نئے متاثرین کو بچایا جا سکتا ہے، جبکہ 90 ہزار جگر کے کینسر اور 71 ہزار جگر کی خرابی (سیروسس) کے کیسز کو روکا جا سکتا ہے۔
اس سے اگلے پانچ سالوں میں پاکستان کو علاج پر 1.3 ارب روپے اور ہسپتال داخلے کے اخراجات میں 2 ارب روپے کی بچت ہوگی، یعنی مجموعی طور پر 3.3 ارب روپے کی مالی بچت متوقع ہے۔
پاکستان میں اس وقت دنیا بھر کے ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کا 20 فیصد موجود ہے۔ ہر سال تقریباً 1 لاکھ 10 ہزار افراد اس وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں، جن میں سے 62 فیصد متاثرین غیر محفوظ طبی انجیکشنز (بشمول خون کی منتقلی) جبکہ 38 فیصد نشے کی حالت میں انجیکشن لگانے کے باعث متاثر ہوتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ پاکستان ڈاکٹر ڈاپینگ لو نے کہا کہ ہم ہر 30 سیکنڈ میں ہیپاٹائٹس کی وجہ سے جگر کی بیماری یا کینسر کے باعث ایک جان کھو دیتے ہیں۔ ہمیں فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی قیادت میں ہم مل کر اس بیماری پر قابو پا سکتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے (آئیے، اسے ختم کریں) کے عنوان سے ایک عالمی مہم شروع کی ہے، جس کے تحت تمام ممالک پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ ویکسینیشن، محفوظ انجیکشن، منشیات سے بچاؤ، اور سب سے بڑھ کر ٹیسٹنگ اور علاج کو صحت کے قومی نظام میں شامل کریں۔
وزارت صحت اور ڈبلیو ایچ او نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم ہیپاٹائٹس خاتمہ پروگرام کے تحت 2027 تک ملک کی 50 فیصد اہل آبادی (یعنی 8 کروڑ 25 لاکھ افراد) کی اسکریننگ اور 50 لاکھ مریضوں کا علاج کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ مہم نہ صرف زندگیوں کو بچانے کا ذریعہ بنے گی بلکہ ملک کو اربوں روپے کے طبی اخراجات سے بھی بچائے گی۔ ماہرین نے والدین، کمیونٹی اور تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قومی مشن کا حصہ بنیں تاکہ ہیپاٹائٹس جیسے مہلک مرض کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن ہو سکے۔