پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا کی صوبائی پارلیمانی پارٹی نے سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو مرکزی مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

21 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس کے متفقہ اعلامیے میں پارٹی قیادت سے بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی اہلیہ اور دیگر زیرِ حراست رہنماؤں کی رہائی کے لیے مؤثر احتجاجی لائحۂ عمل دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں خیبرپختونخوا کے معدنیات کے شعبے میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

 

اعلامیے کے مطابق صوبائی پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ مرکزی مذاکراتی عمل میں صوبے کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ اس مقصد کے لیے اکثریتی رائے سے سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ان کے تجربے کی بنیاد پر صوبے کا نمائندہ نامزد کیا گیا ہے۔

 

صوبائی قیادت سے متعلق وضاحت

 

اعلامیے میں صوبائی پارلیمانی پارٹی کے گزشتہ اجلاس کے حوالے سے پیدا ہونے والے ابہام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر ہیں۔

 

 ان عہدوں کے حوالے سے گزشتہ اجلاس میں نہ کوئی بات چیت ہوئی اور نہ ہی کوئی فیصلہ کیا گیا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ان آئینی اور تنظیمی عہدوں سے متعلق کوئی فیصلہ کرنا صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اختیار میں نہیں۔

 

پارلیمانی پارٹی نے مرکزی سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ کے حالیہ بیان اور ٹویٹ پر تشویش اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اعلامیے میں سلمان اکرم راجہ سے اپنا بیان واپس لینے اور صوبائی پارلیمانی پارٹی سے معذرت کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

 

ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مذمت

 

پی ٹی آئی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی نے اعلامیے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ 11 اکتوبر کو دو تہائی اکثریت رکھنے والی خیبر پختونخوا کی منتخب حکومت کے خلاف ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہے، جسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کیا جاتا ہے۔

 

اعلامیے میں وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم خان سواتی، صوبائی وزراء، اراکینِ صوبائی و قومی اسمبلی، پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے اغوا اور گرفتاریوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

 

پارلیمانی پارٹی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لے اور مبینہ طور پر اغوا کیے گئے رہنماؤں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی بازیابی کے لیے کردار ادا کرے۔ اعلامیے میں عدالتوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ تاخیری حربوں سے گریز کرتے ہوئے فوری قانونی کارروائی کی جائے اور متعلقہ افراد کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔

 

عمران خان اور دیگر اسیران کی رہائی کے لیے احتجاجی لائحۂ عمل کا مطالبہ

 

اعلامیے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کی اہلیہ اور دیگر اسیران کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پارٹی قیادت اور ذمہ داران پر زور دیا گیا ہے کہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے فوری طور پر واضح اور مؤثر احتجاجی لائحۂ عمل دیا جائے، تاکہ موجودہ صورتحال کے خلاف سیاسی اور جمہوری جدوجہد کو منظم کیا جا سکے۔

 

قبائلی اور بندوبستی اضلاع میں نئے انتظامی نظام کی مخالفت

 

صوبائی پارلیمانی پارٹی نے دہشت گردی کے بیانیے کی بنیاد پر قبائلی اور بعض بندوبستی اضلاع میں قائم کیے جانے والے نئے انتظامی نظام اور اس کے تحت تشکیل دیے گئے ڈھانچے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ اعلامیے میں اس نظام کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

 

پارلیمانی پارٹی نے اس معاملے پر قانونی اور سیاسی حکمتِ عملی مرتب کرنے، دیگر سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقوں کو ساتھ ملا کر تحریک چلانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اعلامیے میں ایریا ریپریزنٹیٹو ڈویلپمنٹ کونسلز (اے آر ڈی سیز) کے ذریعے غیر منتخب نمائندوں کو مسلط کرنے کی کوشش کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کیا گیا ہے۔

 

صوبائی پارلیمانی پارٹی نے اعلامیے کے اختتام پر صوبے کے آئینی، جمہوری اور انتظامی حقوق کے تحفظ، منتخب قیادت اور کارکنوں کی بازیابی، عمران خان اور دیگر اسیران کی رہائی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کے لیے آئین و قانون کے دائرے میں سیاسی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔