ٹیکس کسی بھی ریاست کی معیشت کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔ حکومتیں عوام سے حاصل ہونے والے ٹیکس کے ذریعے سڑکیں، اسپتال، تعلیمی ادارے، امن و امان، دفاع اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ اسلامی تاریخ میں بھی بیت المال کا نظام عوامی فلاح کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ 

حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں ریاستی وسائل کو منظم انداز میں جمع کرکے عوام کی ضروریات پوری کی جاتی تھیں تاکہ معاشرے میں انصاف اور مساوات برقرار رہ سکے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا اسمبلی نے صحافیوں کی کوریج سے متعلق نیا قانون منظور کر لیا

 

ماہرین کے مطابق ٹیکس ہر ریاست کی ضرورت ہے، لیکن اس کا نفاذ عوامی حالات، معاشی استعداد اور آئینی و قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔ یہی سوال آج سوات میں شدت سے اٹھایا جا رہا ہے، جہاں ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو، وفاقی ادارۂ محصولات) کی جانب سے ٹیکس کے نفاذ پر پورے مالاکنڈ ڈویژن میں احتجاج، ہڑتالیں اور تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔

 

سوات کا معاملہ پاکستان کے دیگر شہروں سے مختلف سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک سابقہ ریاست تھی، جو 1969 میں پاکستان میں ضم ہوئی۔ مقامی سطح پر اس انضمام سے متعلق مختلف تاریخی مؤقف پائے جاتے ہیں۔

 

 بعض مقامی رہنما، شاہی خاندان کے افراد اور تاجر تنظیمیں یہ مؤقف رکھتی ہیں کہ انضمام کے وقت سوات کو ٹیکس سے استثنا دیا گیا تھا، جبکہ حکومت کی جانب سے ٹیکس اصلاحات کو موجودہ قانونی اور مالیاتی نظام کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

 

 

سوات گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی، فوجی آپریشنز، نقل مکانی، زلزلوں اور تباہ کن سیلابوں سے شدید متاثر رہا ہے۔ ان حالات نے مقامی معیشت کو کمزور کیا، سیاحت متاثر ہوئی، چھوٹے کاروبار بار بار تباہ ہوئے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود رہے۔ 

مقامی تاجر کہتے ہیں کہ یہاں نہ بڑی صنعتیں قائم ہیں اور نہ ہی ایسے معاشی مواقع موجود ہیں جو بڑے شہروں میں دستیاب ہیں، اس لیے نئے ٹیکس ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں گے۔

 

شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی مسرت بی بی، جو سابق رکن اسمبلی بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کے مطابق ریاست سوات کے پاکستان میں انضمام کے وقت سو سالہ مدت کی شرط نہیں رکھی گئی تھی، بلکہ یقین دہانی یہ کرائی گئی تھی کہ سوات سے ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا۔ 

 

ان کے مطابق یہی یقین دہانی انضمام کے فیصلے کی بنیادوں میں شامل تھی کہ سوات سے کبھی بھی ٹیکس نہیں لیا جائے گا، اور اسی لیے آج مقامی عوام اس معاملے کو تاریخی وعدے سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

 

اسی مؤقف کے تناظر میں مینگورہ کے بازاروں میں بھی شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ جب بھی احتجاج یا ہڑتال ہوتی ہے تو دکانیں بند کرنا پڑتی ہیں، روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور متاثر ہوتے ہیں، سامان کی ترسیل رک جاتی ہے اور پہلے سے کمزور کاروبار مزید نقصان اٹھاتا ہے۔

 

 

مینگورہ سے تعلق رکھنے والے دکاندار محمد رازق خان کہتے ہیں کہ حکومت پہلے ہی مختلف اشیائے ضروریہ، بجلی، ایندھن اور دیگر شعبوں میں ٹیکس وصول کر رہی ہے، جبکہ اب مزید براہِ راست ٹیکس بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔

 

 ان کے مطابق وہ لاہور سے کپڑا منگواتے ہیں، کرایہ اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات الگ برداشت کرتے ہیں، دکان پر کئی افراد کا روزگار وابستہ ہے، لیکن کاروبار پہلے جیسا نہیں رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مزید ٹیکس عائد کیے گئے تو چھوٹے دکانداروں کے لیے کاروبار جاری رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

 

دوسری جانب کاروباری شخصیت اور صحافی حارث خان یوسفزئی کا کہنا ہے کہ سوات کے تاجروں کا مؤقف صرف ٹیکس تک محدود نہیں بلکہ معاشی حالات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی، فوجی آپریشنز اور قدرتی آفات نے کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

 

 پہلے بھی لوگ بجلی اور دیگر بلوں کے ذریعے بالواسطہ ٹیکس ادا کرتے رہے ہیں، لیکن اب مختلف شعبوں میں براہِ راست ٹیکس نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ٹیکس کے نظام کو وسعت دینا چاہتی ہے تو اس سے پہلے سوات میں صنعتیں قائم کرے، سرمایہ کاری لائے، نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے اور مقامی معیشت کو مضبوط بنائے تاکہ عوام ٹیکس ادا کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں۔

 

جنرل سیکرٹری سوات ٹریڈرز فیڈریشن ڈاکٹر خالد محمود خالد کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک سوات میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ کا قانونی جواز موجود نہیں۔ ان کے مطابق 1969 میں انضمام کے وقت کیے گئے انتظامات اور اُس دور کی سرکاری تقاریر میں ٹیکس سے استثنا کا ذکر کیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ بعد ازاں جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی اس خصوصی حیثیت کو برقرار رکھا گیا۔

 

 

ڈاکٹر خالد محمود خالد کا کہنا ہے کہ سابق صدر ضیاء الحق نے کہا تھا کہ سوات سے 100 سال تک کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔ ان کے مطابق سوات نے پاکستان کے ساتھ الحاق کے وقت ہر ممکن تعاون کیا تھا، اس لیے حکومت کو مقامی عوام کے تاریخی اور قانونی مؤقف کو سنجیدگی سے سننا چاہیے۔

 

 ان کا مزید کہنا ہے کہ سوات میں نہ بڑی صنعتیں ہیں اور نہ ہی روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں، اس لیے ایسے حالات میں نئے ٹیکس عوام پر اضافی بوجھ ثابت ہوں گے۔

 

اس حوالے سے رکن صوبائی اسمبلی حامد خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کی ہے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بھی عوامی تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔

 ان کے مطابق وہ اس مسئلے کو آئینی اور قانونی طریقے سے اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عوام کے تحفظات ایک ہفتے کے اندر دور نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، “ہم خود کبل، سوات میں احتجاج کریں گے کیونکہ یہ آئینی معاہدے کی خلاف ورزی ہے، اور 100 سالہ معاہدے کی خلاف ورزی وفاق کر رہا ہے۔”

 

دوسری جانب حکومت اور ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ٹیکس اصلاحات قومی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے ضروری ہیں اور ٹیکس سے متعلق تمام فیصلے موجودہ آئینی اور قانونی فریم ورک کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔

 

سوات کا ٹیکس معاملہ صرف محصولات کے نفاذ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ تاریخی حیثیت، قانونی تشریح، معاشی حالات اور عوامی اعتماد سے جڑا ہوا ایک اہم معاملہ بن چکا ہے۔ اس تنازع کا حل کسی ایک فریق کے مؤقف کو نظر انداز کرنے کے بجائے آئینی تقاضوں، تاریخی حقائق اور مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات اور قانونی وضاحت کے ذریعے ہی ممکن ہے، تاکہ ریاستی نظام بھی مضبوط ہو اور عوام کا اعتماد بھی برقرار رہے۔