ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک انسانی طرزِ زندگی، لباس، خوراک اور ٹیکنالوجی مسلسل تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ چند عشروں پہلے لوگ نسبتاً زیادہ صحت مند، توانا اور طویل عمر کے حامل ہوتے تھے۔

 

 اس کی ایک بڑی وجہ ان کی سادہ، متوازن اور قدرتی غذا تھی۔ اس دور میں لوگ عموماً دن میں دو وقت کھانا کھاتے تھے اور ان کی خوراک مصنوعی اجزاء، کیمیکلز اور فاسٹ فوڈ سے پاک ہوتی تھی۔

 

یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں پھنسے 1600 پاکستانی ڈرائیورز کب وطن واپس آئیں گے؟ حکام کا اہم فیصلہ سامنے آ گیا

 

اس طرزِ زندگی کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ نہ صرف وقت کی بچت ہوتی تھی بلکہ گھریلو بجٹ پر بھی غیر ضروری بوجھ نہیں پڑتا تھا۔ لوگ پورا دن چست و توانا رہتے تھے جبکہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا اور دل کے امراض جیسی بیماریاں آج کے مقابلے میں بہت کم پائی جاتی تھیں۔

 

لیکن آج ہماری غذائی عادات بھی زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح تبدیل ہو چکی ہیں۔ دو وقت کھانے کے بجائے ہم دن بھر کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے ہیں۔ ناشتہ، لنچ، شام کی چائے، اسنیکس، ڈنر اور پھر ٹی وی دیکھتے ہوئے یا گفتگو کے دوران مختلف کھانے پینے کی اشیا استعمال کرنا معمول بن چکا ہے۔

 

 

 ہماری خوشی اور غم کی تقریبات، حتیٰ کہ تعزیتی اجتماعات اور قرآن خوانیوں میں بھی رنگا رنگ کھانوں اور طویل مینیو کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری توجہ زندگی کے دیگر اہم پہلوؤں کے بجائے خوراک پر مرکوز ہو گئی ہے۔

 

اس غلط عادت کے طبی اثرات کے متعلق نیوٹریشنسٹ مس فائزہ حنیف کہتی ہیں کہ ہمارے ہسپتالوں میں آنے والے 70 فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جن کی بیماریوں کی بنیادی وجہ ضرورت سے زیادہ کھانا ہے۔

 

 پرانے دور میں لوگ صرف بھوک لگنے پر کھاتے تھے۔ جبکہ آج کا انسان بوریت ختم کرنے، خوشی منانے یا محض فیشن کے طور پر کھاتا ہے۔ جب آپ کا معدہ ہر وقت کام کرتا رہے گا، تو جسم کو اپنے خلیات کی مرمت کا وقت ہی نہیں ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کینسر، ذیابیطس اور جگر کے امراض میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ سادہ اور کم کھانا ہی انسانی جسم کو چست رکھ سکتا ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ آج انسان کی خوراک پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہونے کے باوجود غذائیت کے اعتبار سے کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات، چپس، بسکٹس اور دیگر پراسیسڈ غذائیں وقتی طور پر ذائقہ تو فراہم کرتی ہیں لیکن جسم کو وہ غذائیت نہیں دیتیں جس کی اسے ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موٹاپا، شوگر اور نظامِ ہضم سے متعلق بیماریوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

 

 خوراک کی ان بدلتی ہوئی عادات کے معدے اور نظامِ ہضم پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں گیسٹرو انٹرالوجسٹ ڈاکٹر نیاز احمد کہتے ہیں کہ ہمارے پاس روزانہ معدے کی تیزابیت، السر، اور فیٹی لیور کے سینکڑوں مریض آتے ہیں۔ 

 

 

جب ہم ان کی ہسٹری لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا معدہ کبھی خالی ہی نہیں رہتا۔ رات کو 12 بجے بھاری کھانا کھانا اور پھر سو جانا ایک عام معمول بن چکا ہے۔ قدیم دور کا دو وقت کا سادہ کھانا ہمارے نظامِ ہضم کے لیے بہترین تھا۔ جدید میڈیکل سائنس اب اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ جتنا کم اور سادہ کھایا جائے گا، عمر اتنی ہی طویل اور صحت مند ہوگی۔

 

حقیقت یہ ہے کہ ہم نہ صرف اپنی صحت کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ اپنا پیسہ بھی غیر ضروری خوراک پر خرچ کر رہے ہیں۔ چپس، بسکٹس، کولڈ ڈرنکس اور دیگر اسنیکس عموماً خالی کیلوریز فراہم کرتے ہیں۔ یہ وقتی طور پر بھوک تو مٹا دیتے ہیں لیکن جسم کو مطلوب غذائیت فراہم نہیں کرتے۔ نتیجتاً موٹاپا، سستی اور مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

 

اگر ہم اپنے بزرگوں کی طرح سادہ، متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک کو اپنائیں تو نہ صرف صحت بہتر ہو سکتی ہے بلکہ وقت اور مالی وسائل کی بھی بچت ممکن ہے۔ دالیں، سبزیاں، پھل، دودھ، دہی اور انڈے جیسی غذائیں کم خرچ ہونے کے ساتھ جسم کی ضروری غذائی ضروریات بھی پوری کرتی ہیں۔

 

جدید تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلسل کھاتے رہنے کے بجائے کھانوں کے درمیان مناسب وقفہ رکھنا صحت کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ اس سے نظامِ ہضم کو آرام ملتا ہے، انسولین کی سطح متوازن رہتی ہے اور جسم کو اپنی مرمت کے لیے وقت ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ماہرینِ صحت متوازن خوراک اور کھانے کے اوقات کی پابندی پر زور دیتے ہیں۔

 

اسی تناظر میں "انٹرمٹنٹ فاسٹنگ" دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہی ہے۔ اس طریقۂ کار میں کھانے کے اوقات محدود کیے جاتے ہیں، جس سے نظامِ ہضم کو آرام ملتا ہے اور جسم اپنی توانائی کے لیے ذخیرہ شدہ چربی استعمال کرنے لگتا ہے۔

 

آٹوفیجی کے عمل پر تحقیق کے اعتراف میں 2016 میں جاپانی سائنسدان یوشینوری اوسومی کو نوبل انعام سے نوازا گیا۔ یہ تحقیق اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ مناسب وقفے کے ساتھ کھانا جسم کے قدرتی مرمتی نظام کو فعال بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

 

اگر ہم بیماریوں، مہنگے علاج اور غیر ضروری اخراجات سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی غذائی عادات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ سادہ، متوازن اور اعتدال پر مبنی خوراک نہ صرف بہتر صحت بلکہ ایک بہتر معیارِ زندگی کی بھی ضمانت بن سکتی ہے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔