پاکستان میں آئین کے آرٹیکل 51 کے مطابق ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 18 سال ہے۔ یہ شرط سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں لیگل فریم ورک آرڈر (Conduct of General Elections Order 2002) کے تحت تبدیل کی گئی تھی، جب ووٹر کی عمر 21 سال سے کم کر کے 18 سال کر دی گئی۔ 

 

بعد ازاں 18ویں آئینی ترمیم (2010) کے ذریعے اس فیصلے کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا اور آرٹیکل 51 میں 18 سال کی عمر کو برقرار رکھا گیا۔

 

اس وقت ملک کے سیاسی اور میڈیا حلقوں میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بحث جاری ہے، جس میں دیگر ممکنہ آئینی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر میں تبدیلی کی تجویز بھی سامنے آ رہی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: اسلامیہ کالج یونیورسٹی واقعہ، خاتون لیکچرر سے ہراسانی کے معاملے میں تین طلبہ معطل

 

 اس بحث نے اس وقت زیادہ زور پکڑا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں   وزیر اعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا  ثنااللہ کو ایک نجی ٹی وی پروگرام میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم میں ووٹر کی عمر 25 سال کرنے کی تجویز زیر غور ہے، کیونکہ الیکشن لڑنے کی عمر 25 سال ہے اور اس عمر میں انسان زیادہ ذمہ دار ہوتا ہے، جبکہ ان کے مطابق ووٹ دینا اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔

 

اسی بحث کے دوران حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ ووٹر کی عمر 18 سال سے بڑھا کر 21 یا 25 سال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

 

 

 اس ممکنہ تبدیلی کو بعض حلقے سیاسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں کہ اس سے نوجوان ووٹ بینک کے اثرات کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حکومتی موقف میں اسے سیاسی شعور اور ذمہ داری کے معیار سے جوڑا جا رہا ہے۔اس معاملے پر مختلف سیاسی و سماجی ردعمل بھی سامنے آ رہے ہیں۔

 

 پاکستان رائٹس موومنٹ کے سربراہ مشتاق احمد نے اس تجویز کو نوجوانوں کے حقِ رائے دہی پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عمر 25 سال بھی کر دی جائے یا 50 سال، عوام پھر بھی ان پالیسیوں کو قبول نہیں کریں گے جو مہنگائی اور بے روزگاری کا باعث بنی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو اپنے حق کے دفاع کے لیے مزاحمت کرنی چاہیے۔

 

قانونی ماہر ایڈوکیٹ علی گوہر کے مطابق آئینی ترمیم کرنا حکومت کے لیے مشکل عمل نہیں، تاہم اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں نوجوان ووٹ کے حق سے محروم ہو جائیں گے جو آئینی و جمہوری اصولوں کے خلاف ہوگا۔

 

 ان کے مطابق 18 سال کی عمر میں ایک فرد نہ صرف بالغ اور باشعور ہوتا ہے بلکہ آج کا نوجوان سیاسی طور پر بھی مکمل آگاہ ہے اور اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

سیاسی جماعتوں کی سطح پر بھی اس ممکنہ تجویز پر اختلاف سامنے آ رہا ہے۔ 

 

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ساجد بنگش نے اس اقدام کو نوجوان ووٹ بینک کو کم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کی بڑی حمایت نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے یہ تجویز نوجوانوں کے بنیادی سیاسی حق کے خلاف ہے اور اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔

 

 

اس حوالے سے خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر برائے نشریات اور صوبائی وزیر قانون سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

 

آئینِ پاکستان کے مطابق آرٹیکل 51 قومی اسمبلی کی تشکیل اور ووٹرز کی اہلیت سے متعلق ہے۔ موجودہ قانون کے تحت ہر وہ پاکستانی شہری ووٹ ڈالنے کا حق رکھتا ہے جو کم از کم 18 سال کا ہو، پاکستانی شہری ہو، اس کا نام انتخابی فہرست میں شامل ہو، اور کسی مجاز عدالت کی طرف سے ذہنی طور پر غیر متوازن یا نااہل قرار نہ دیا گیا ہو۔

 

 الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قواعد کے مطابق جس شہری کی عمر یکم جنوری تک 18 سال مکمل ہو جائے، وہ ووٹر رجسٹریشن کے لیے اہل ہوتا ہے۔

 

پاکستان کی انتخابی تاریخ میں ووٹر کی عمر میں وقت کے ساتھ تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل 1946 اور 1947 کے انتخابات میں ووٹر کی عمر 21 سال تھی، جبکہ اس وقت ووٹ دینے کے لیے جائیداد اور ٹیکس ادا کرنے جیسی شرائط بھی موجود تھیں۔

 

 پاکستان کے قیام کے بعد 1971 کے انتخابات میں بھی یہی عمر 21 سال برقرار رہی۔ 1973 کے آئین میں بھی ووٹ ڈالنے کی عمر 21 سال مقرر کی گئی، جو 2002 تک نافذ رہی۔

 

 

بعد ازاں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں لیگل فریم ورک آرڈر (LFO 2002) کے تحت ووٹر کی عمر 21 سال سے کم کر کے 18 سال کر دی گئی تاکہ نوجوانوں کو سیاسی عمل میں زیادہ شامل کیا جا سکے۔ بعد میں 18ویں آئینی ترمیم نے اس فیصلے کو آئینی اور مستقل حیثیت دے دی۔

 

دنیا کے مختلف ممالک میں بھی ووٹر کی عمر مختلف ہے، تاہم اکثریتی ممالک میں یہ 18 سال ہی ہے، جو تقریباً 86 فیصد ممالک میں نافذ ہے، جن میں پاکستان، امریکہ، کینیڈا اور بھارت شامل ہیں۔ 

 

بعض ممالک جیسے آسٹریا، برازیل، ارجنٹینا، مالٹا اور کیوبا میں ووٹر کی عمر 16 سال ہے، جبکہ انڈونیشیا، شمالی کوریا اور یونان میں یہ 17 سال ہے۔ اس کے برعکس ملائیشیا، سنگاپور، بحرین اور کویت میں ووٹر کی عمر 21 سال مقرر ہے۔

 

قانونی ماہرین کے مطابق اگر حکومت ووٹر کی عمر میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کرنا چاہے تو اس کے لیے آئینی ترمیم ناگزیر ہے، جس کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، اور اس کے بغیر آرٹیکل 51 میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔