ہر سال 20 مئی کو دنیا بھر میں شہد کی مکھیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ ماحولیاتی توازن، غذائی تحفظ اور زرعی ترقی میں ان ننھی مخلوقات کے اہم کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ 

 

تاہم پاکستان میں اس سال یہ دن ایک ایسے سنگین معاشی اور انتظامی بحران کے سائے میں منایا جا رہا ہے جو ملک کی اربوں روپے مالیت کی شہد کی صنعت کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔ 

 

افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق حکومتی فیصلوں اور نقل و حرکت پر عائد سخت پابندیوں نے دہائیوں سے اس صنعت کو اپنے خون پسینے سے پروان چڑھانے والے افغان مگس بانوں کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی شہد برآمد کرنے والی صنعت بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: پاکستان سمیت دنیا بھر میں ووٹر کی عمر کیا ہے؟ حقِ رائے دہی کا تاریخی و قانونی پس منظر کیا کہتا ہے

 

اس کاروبار سے وابستہ افغان خاندانوں کی داستان نہایت دردناک ہے۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ محمد آغا، جو گزشتہ 40 سالوں سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں مگس بانی سے وابستہ ہیں، موجودہ صورتحال پر شدید رنج کا اظہار کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کے 1 ہزار سے زائد شہد کی مکھیوں کے بکس اس وقت میاں والی میں پھنسے ہوئے ہیں۔

 

 

 ان کے مطابق انتظامیہ نہ تو انہیں یہاں معمول کے مطابق کاروبار جاری رکھنے کی اجازت دے رہی ہے اور نہ ہی انہیں شہد کی مکھیوں کے بکس افغانستان منتقل کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ محمد آغا کا کہنا ہے کہ اس غیر یقینی صورتحال نے ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

 

وہ بتاتے ہیں کہ گرفتاری اور ملک سے نکالے جانے کے خوف کی وجہ سے کئی افغان مگس بان شدید مالی نقصان کے ساتھ اپنے بکس فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ 8 ہزار روپے مالیت کا ایک بکس محض 2 ہزار روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے کیونکہ اگر یہ بکس بروقت نہ سنبھالے گئے تو ان کے اندر موجود مکھیاں مر جائیں گی اور پورا سرمایہ ختم ہو جائے گا۔

 

اسی معاشی کرب کا اظہار افغانستان کےشہر   پکتیکا سے تعلق رکھنے والے نوجوان مگس بان شکیل بھی کرتے ہیں جن کا خاندان گزشتہ 30 سالوں سے  پاکستان میں اس پیشے سے وابستہ ہے۔ شکیل کے مطابق 800 بکسوں پر مشتمل ان کا فارم ان کے خاندان کی واحد ذریعہ معاش ہے۔

 

 وہ کہتے ہیں کہ وہ مکھیوں کو یوں بے یار و مددگار چھوڑ کر جانے کے بجائے ہر قسم کی مشکل برداشت کرنے کو تیار ہیں۔ ان کے مطابق روزانہ پولیس کارروائی اور گرفتاری کے خوف نے انہیں اپنے ہی فارم چھوڑ کر روپوش ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔

 

 

شکیل کا کہنا ہے کہ ان کا حکومت سے کوئی مالی مطالبہ نہیں، صرف یہ درخواست ہے کہ انہیں بیری کے سیزن کے اختتام تک مہلت دی جائے یا پھر شہد کی مکھیوں کے بکس افغانستان منتقل کرنے کی قانونی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے وطن واپس جا کر بھی باعزت روزگار جاری رکھ سکیں۔

 

صنعت کے معاشی حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے آل پاکستان بی کیپرز ایکسپورٹرز اینڈ ہنی ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر شیر زمان مہمند نے موجودہ حکومتی پالیسی کو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔

 

 ان کے مطابق 1979 سے اب تک پاکستان کو شہد کی پیداوار میں خودکفیل بنانے اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی دلانے میں تقریباً 60% کردار افغان مگس بانوں کا رہا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ پاکستان ہر سال تقریباً 45 لاکھ کلوگرام اعلیٰ معیار کا شہد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور وسطی ایشیا کے ممالک کو برآمد کرتا ہے۔ 

 

 

ان کے مطابق اگر یہ ماہر افغان مگس بان ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تو عالمی منڈی میں پاکستان کی جگہ بھارت اور چین لے سکتے ہیں، کیونکہ مقامی سطح پر ابھی اتنی تربیت یافتہ افرادی قوت موجود نہیں جو اس بڑے پیمانے پر مگس بانی کے نظام کو سنبھال سکے۔

 

شیر زمان مہمند نے اس بحران کے ممکنہ اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال صرف شہد کی برآمدات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ملکی زراعت بھی متاثر ہوگی۔ ان کے مطابق شہد کی مکھیاں فصلوں کی پولینیشن میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، جس سے مختلف زرعی اجناس کی پیداوار میں قدرتی طور پر 30% تک اضافہ ہوتا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ اس نازک صورتحال کے پیش نظر وزارتِ صنعت کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی گئی ہے تاکہ افغان مگس بانوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

 

 ان کے مطابق صنعت سے وابستہ تمام فریقین کا متفقہ مطالبہ ہے کہ یا تو افغان مگس بانوں کو موجودہ سیزن کے اختتام تک عارضی اجازت دی جائے یا پھر فوری طور پر ہر ضلع میں مقامی افراد کو جدید مگس بانی کی تربیت فراہم کی جائے تاکہ پاکستان اس قیمتی صنعت کو تباہی اور بڑے معاشی نقصان سے بچا سکے۔