سوشل میڈیا کے اس دور میں ہم روز کسی نہ کسی کو رشتوں، شادی اور مرد و عورت کے تعلق پر گفتگو کرتے دیکھتے ہیں۔ لوگ لائیو آتے ہیں، ویڈیوز بناتے ہیں، مشورے دیتے ہیں اور ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ انہیں سنتے ہیں، مانتے ہیں، اور بعض اوقات ان کی باتوں کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیتے ہیں۔
انہی ناموں میں ایک نام ڈاکٹر نبیحہ کا بھی ہے، جو خود کو سائیکالوجسٹ اور سوشل میڈیا انفلوئنسر کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر شادی شدہ زندگی اور مرد و عورت کے کردار پر نہایت واضح، دوٹوک اور بعض اوقات سخت رائے دی ہے۔
حال ہی میں جب وہ ایک لائیو ویڈیو میں اپنی دوسری شادی، اپنے شوہر اور سسرال کے خلاف کھل کر بولیں تو سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ لوگوں کو اس لیے زیادہ حیرت ہوئی کیونکہ ان کی پرانی ویڈیوز میں بالکل مختلف باتیں سننے کو ملتی تھیں۔ وہی جملے، وہی نظریات، جو کبھی اعتماد سے بیان کیے گئے تھے، اب سوالیہ نشان بن کر سامنے کھڑے تھے۔
انہوں نے کئی بار کہا کہ اگر مرد عورت کو گالی دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس سے نفرت کرتا ہے، بلکہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔ یہ جملہ بہت سے لوگوں نے سنا، کئی نے اس پر یقین بھی کیا ہوگا، اور شاید کچھ عورتوں نے اپنی بے عزتی کو اسی سوچ کے سہارے برداشت بھی کیا ہوگا، لیکن اگر گالی دینا محبت ہے تو پھر عزت کیا ہے؟
اگر کسی کو برا بھلا کہنا پیار ہے تو پھر نرمی، شفقت اور لحاظ کس چیز کا نام ہے؟ محبت میں انسان دوسرے کا دل نہیں دکھاتا، اس کی عزت کرتا ہے۔ وہ اپنے الفاظ چنتا ہے، لہجے کو نرم رکھتا ہے، اور اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ سامنے والے کی خودداری مجروح نہ ہو۔
نفسیاتی طور پر بھی دیکھا جائے تو بار بار گالی دینا یا تذلیل کرنا انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔ یہ عمل آہستہ آہستہ خوداعتمادی کو ختم کر دیتا ہے، شخصیت کو کمزور کر دیتا ہے، اور انسان کو یہ احساس دلانے لگتا ہے کہ وہ اہم نہیں، قابلِ احترام نہیں۔
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر واقعی ان کے مطابق مرد کی سختی محبت ہوتی ہے، تو پھر جب حالیہ لائیو ویڈیو میں انہوں نے اپنے شوہر کے بارے میں بات کی، تو کیا وہ اس اصول کو خود پر بھی لاگو کر رہی تھیں؟ اگر شوہر نے کچھ سخت الفاظ کہے ہوں گے، تو کیا اسے بھی محبت سمجھا گیا؟ یا پھر وہ تکلیف بن گیا؟ کیونکہ جو منظر لوگوں نے دیکھا، اس میں وہ دکھ، غصہ اور شکوہ نمایاں تھا۔
انہوں نے ٹی وی پر آ کر اپنے شوہر کی ساری باتیں کھول دیں، ان کے کردار پر سوال اٹھائے، سسرال والوں کے بارے میں بھی تفصیل سے بات کی۔
اگر عورت کا سسرال کے بارے میں بولنا سیاست ہے، اگر شوہر کے خلاف بات کرنا گھر نہ بسانے کی علامت ہے، تو پھر یہ اصول یہاں کیوں نہیں چل سکا؟ کیا اصول حالات کے مطابق بدل جاتے ہیں؟ یا پھر وہ صرف دوسروں کو خاموش رکھنے کے لیے بیان کیے جاتے ہیں؟
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پہلے کی عورتوں کے ہاتھ چلتے تھے مگر زبان نہیں چلتی تھی۔ آج کی عورتوں کی زبان بھی چلتی ہے اور دماغ بھی، وہ سسرال میں سیاست کرتی ہیں، بدلہ لیتی ہیں۔ جبکہ مرد صرف گھر بسانا چاہتے ہیں اور عورتیں گھر نہیں بسا رہیں۔
یہ جملے سن کر بہت سی عورتوں کو شاید یہ لگا ہوگا کہ انہیں واقعی خاموش رہنا چاہیے، اپنے زخم چھپانے چاہئیں، آنسو نگل لینے چاہئیں۔ لیکن آج جب وہ خود بولیں، اپنی تکلیف بیان کی، تو لوگوں نے وہی پرانے جملے یاد کیے۔ کیونکہ اصول اگر صرف دوسروں کے لیے ہوں اور اپنے لیے نہ ہوں تو وہ کمزور ہو جاتے ہیں، اپنا وزن کھو دیتے ہیں۔
مسئلہ کسی کے درد بیان کرنے کا نہیں، کیونکہ ہر انسان کو بولنے کا حق ہے اور خاموشی کوئی عبادت نہیں۔ اصل سوال تب اٹھتا ہے جب ہم دوسروں کو سکھائیں کہ گالی محبت ہے، سختی پیار ہے اور عورت کا بولنا غلط ہے، مگر خود اسی صورتحال میں اسے برداشت نہ کر سکیں۔
انسان کی آزمائش تب ہوتی ہے جب حالات اس کے اپنے دروازے پر آئیں تب نظریات نہیں، احساس بولتا ہے۔ یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ رشتہ عزت، برابری اور باہمی ذمہ داری سے چلتا ہے، نہ کہ تذلیل اور دوہرے معیار سے۔ اصول سب کے لیے برابر ہوں اور ہم وہی بات کہیں جس پر خود بھی قائم رہ سکیں— یہی انصاف اور یہی سچ ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
