پشاور میں ڈاکٹر مہوش کے قتل کے خلاف ڈاکٹروں نے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع اور مردان ڈویژن کے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) نے الیکٹیو سروسز سے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
وائی ڈی اے خیبرپختونخوا کے صدر ڈاکٹر اسفندیار کا کہنا ہے کہ احتجاج کا دائرہ کار بتدریج پورے صوبے تک پھیلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے مرحلہ وار احتجاج کیا جا رہا ہے، تاہم ایمرجنسی سروسز معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیے: ڈاکٹر مہوش قتل کیس: حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ڈاکٹروں کو لاشیں اٹھانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایمرجنسی کے علاوہ او پی ڈیز اور دیگر الیکٹیو سروسز سے بائیکاٹ جاری رہے گا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں سمیت طبی عملہ عدم تحفظ کا شکار ہے اور ہسپتالوں میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
صدر وائی ڈی اے ڈاکٹر اسفندیار نے مطالبہ کیا کہ ہسپتالوں میں سیکیورٹی ایکٹ کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ اب صرف سیکیورٹی کا نہیں بلکہ ڈاکٹروں کی جان کے تحفظ کا بن چکا ہے۔
انہوں نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ڈاکٹروں کو مؤثر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، جس کے باعث طبی برادری سراپا احتجاج ہے۔
