ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر ڈاکٹر اسفندیار بیٹنی نے کہا ہے کہ حکومت ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ اگر کوہاٹ ہسپتال میں بنیادی سہولیات موجود ہوتیں تو ڈاکٹر مہوش کے قتل جیسا افسوسناک واقعہ پیش نہ آتا۔

 

پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  ڈاکٹر اسفند یار بیٹنی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ڈاکٹروں کو روزانہ لاشیں اٹھانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے اور گزشتہ بارہ سال سے حکومت صرف پالیسیاں بنانے میں مصروف رہی ہے جبکہ عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔

 

 انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کے مراکز وزیراعلیٰ ہاؤس اور اڑیالہ جیل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مہوش کے قتل کی تمام ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ 

 

انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کے لواحقین صبر کھو بیٹھتے ہیں اور اس کا نتیجہ افسوسناک سانحات کی شکل میں نکلتا ہے۔

 

ڈاکٹر اسفند یار نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی وزیر مشیر ایسے کرپٹ افراد کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کرتے ہیں جو حکومت کے فنڈز ہڑپ کرنے میں ملوث ہیں، اور اس معاملے میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اعلیٰ شخصیات کے رشتہ دار ہوں۔

 

 ان کےمطابق  ہسپتالوں سے بڑی چوریوں اور مالی بدعنوانیوں کے سکینڈلز بھی مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔

 

ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر مہوش کے قاتلوں کو گرفتار کر کے عبرت کا نشان بنایا جائے، تمام سرکاری ہسپتالوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، اور ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔

 

 ڈاکٹر اسفند یار نے کہا کہ صوبائی اسمبلی سے ڈاکٹروں کے تحفظ کا قانون تو منظور ہو چکا ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔

 

انہوں نے آخر میں واضح کیا کہ حکومت کو فوری طور پر اقدامات کرنے ہوں گے ورنہ احتجاج اور دھرنے وزیراعلیٰ ہاؤس اور اڑیالہ جیل تک بڑھ جائیں گے تاکہ ڈاکٹروں کے حقوق تسلیم کیے جائیں اور عوام کو بھی بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔