عظمی اقبال
گلزارین کے کمرے میں خاموشی ہے۔ دیواروں پر کوئی تصویر نہیں، الماری میں رنگ برنگی کپڑوں کے بجائے فائلیں، دوائیاں اور برسوں پر محیط ایک خاموش زندگی کی کہانی۔ سوات کے علاقے منگلور میں رہنے والی گلزارین نے جوانی میں ایک ایسا وعدہ کیا تھا جس کی قیمت وہ آج بڑھاپے میں تنہائی کی صورت میں ادا کر رہی ہیں۔اور اس وعدے کا نام تھا سونڈے بخل۔
خیبر پختونخوا کی حسین وادی سوات، جو اپنی سرسبز پہاڑیوں، بہتے چشموں اور مضبوط خاندانی نظام کی وجہ سے جانی جاتی ہے، اسی معاشرے کے اندر ایک ایسی خاموش روایت بھی موجود ہے جس پر کھل کر بات نہیں کی جاتی، جس کو مقامی زبان میں سونڈے بخل کہتے ہے یعنی اپنی جوانی قربان کرنا۔ سونڈے بخل بظاہر ایثار اور خدمت کے نام پر اپنائی جانے والی رسم ہے، مگر حقیقت میں یہ عورت سے اس کی جوانی، شادی، ماں بننے کا حق اور ذاتی مستقبل چھین لیتی ہے۔
سونڈے بخل کے تحت عورت کو خاندانی دباؤ، جذباتی بلیک میلنگ اور معاشی مجبوری کے ذریعے شادی نہ کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ اس فیصلے کو عموماً عورت کی رضامندی ظاہر کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسا خاموش معاہدہ ہوتا ہے جس سے انکار کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔
خاموش جوانی کا قاتل
یہ رسم صرف شادی نہ کرنے تک محدود نہیں، بلکہ عورت کی پوری زندگی خاندان کے نام پر قربان کر دی جاتی ہے۔ اس عہد کے تحت عورت ساری عمر غیر شادی شدہ رہتی ہے تاکہ والدین، بھائی یا دیگر رشتہ داروں کی کفالت کر سکے۔ سماجی حلقوں میں اس روایت کو “خاموش جوانی کا قاتل” بھی کہا جاتا ہے۔
سوات میں سونڈے بخل خاص طور پر 1980 اور 1990 کی دہائی میں زیادہ عام رہی۔ اس دور میں مضبوط پدرشاہی نظام، محدود تعلیمی مواقع اور عورت کی معاشی وابستگی نے اس روایت کو تقویت دی۔ اس وقت سونڈے بخل کو خاندان کی عزت، بہن بھائیوں کی ذمہ داری اور والدین کی خدمت سے جوڑ کر پیش کیا جاتا تھا، اور عورت کے لیے اس فیصلے پر سوال اٹھانا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
مالی مفاد اور خاندانی دباؤ
سماجی کارکن اور خویندو جرگہ تنظیم کی سربراہ تبسم عدنان سونڈے بخل کو عورتوں پر ہونے والا کھلا ظلم قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق اس روایت کے پیچھے سب سے بڑی وجہ مالی مفاد اور جائیداد ہے۔
تبسم عدنان کہتی ہیں کہ سونڈے بخل عورت کی مرضی سے نہیں کروایا جاتا۔ خواتین کو زبردستی شادی سے روکا جاتا ہے تاکہ جائیداد بھائیوں یا مرد رشتہ داروں کے پاس رہے۔
ان کے مطابق خاص طور پر وہ خواتین جو مالی طور پر خود مختار ہوں یا سرکاری ملازمت کرتی ہوں، اس روایت کا زیادہ نشانہ بنتی ہیں۔
جو عورت کماتی ہے، اس پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ خاندان کے لیے سونڈے بخل کرے، اور یوں اس کے پاس انکار کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔
گلزارین کی قربانی، تنہائی کا سفر
منگلور کی رہائشی گلزارین اس روایت کی زندہ مثال ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ جوانی میں یہ فیصلہ ایک وقتی قربانی محسوس ہوئی ، مگر وقت کے ساتھ یہ احساس ایک مستقل خلا میں بدل گیا۔
گلزارین کہتی ہیں کہ میں آٹھ بہنوں اور ایک بھائی میں سب سے بڑی ہوں۔ میں سرکاری نوکری کرتی تھی۔ گھر والوں نے کہا کہ بھائی چھوٹا ہے، تم خاندان کا سہارا بنو اور سونڈے بخل کرو۔ میں نے مجبوری میں یہ فیصلہ مان لیا۔
وہ بتاتی ہیں کہ نوکری کے دوران ذمہ داریوں میں وقت گزر گیا، مگر ریٹائرمنٹ کے بعد تنہائی شدت اختیار کر گئی۔
اب جسم کمزور ہو گیا ہے، باہر جانا مشکل ہے۔ بہنیں اپنی گھروں میں مصروف ہیں۔ اکثر سوچتی ہوں کہ کاش میں نے اپنی زندگی کے بارے میں بھی سوچا ہوتا۔
نئی نسل کی مزاحمت
اگرچہ ماضی میں سونڈے بخل ایک عام روایت تھی، تاہم آج کی نئی نسل اسے ماننے سے انکار کر رہی ہے۔
چارباغ کی رہائشی مینا، جنہوں نے 2025 میں بی ایس پاکستان اسٹڈیز میں مکمل کیا اور اس وقتوہ (پی ایم ایس)کے امتحان کی تیاری کر رہی ہیں، کہتی ہیں کہ ان پر بھی سونڈے بخل رسم کو اپنانے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے، مگر وہ اسے مسترد کرتی ہیں۔
مینا کہتی ہیں
"میرے رشتہ دار مجھے سونڈے بخل کے لیے کہتے ہیں، لیکن میں نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ یہ ایک ظالمانہ روایت ہے اور میں اس کا حصہ نہیں بن سکتی، اور خوش قسمتی سے میری والدہ بھی میرے ساتھ کھڑی ہیں"۔
دین اور قانون کی رائے
دینی نقطۂ نظر سے بھی سونڈے بخل کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ مذہبی اسکالر نادیہ کہتی ہیں:
"اسلام میں سونڈے بخل نام کی کوئی رسم موجود نہیں۔ اللہ نے نکاح کو پسندیدہ عمل قرار دیا ہے۔ والدین کی خدمت فرض ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورت کو پوری زندگی شادی سے محروم رکھا جائے۔ یہ ایک غیر اسلامی عمل ہے"۔
قانونی پہلو
ایڈووکیٹ ملک صدام حسین سونڈے بخل کو ایک سنگین سماجی اور قانونی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔
ان کے مطابق
"ابتدا میں سونڈے بخل کو ایک رضاکارانہ عمل سمجھا جاتا تھا، جس میں بعض خواتین شادی کے بعد اپنے بھائی کے حق میں جائیداد سے دستبردار ہو جاتی تھیں، لیکن وقت کے ساتھ اس رسم کو بگاڑ دیا گیا۔ خاص طور پر ان مردوں نے جن کے پاس زیادہ جائیداد تھی، انہوں نے اپنی بہنوں کو زبردستی سونڈے بخل پر مجبور کرنا شروع کیا تاکہ انہیں جائیداد سے محروم کیا جا سکے"۔
ایڈووکیٹ ملک صدام حسین کہتے ہیں کہ آج بھی سوات کے کئی دیہی علاقوں میں یہ روایت موجود ہے۔ فیصلے عموماً گھر کے اندر ہی طے کیے جاتے ہیں اور خواتین قانونی مدد نہیں لیتیں، مگر ہمارے پاس ایسے بے شمار کیسز آتے ہیں جہاں بھائی بہن سے زبردستی یہ بیان دلواتے ہیں کہ اس نے سونڈے بخل کیا ہے اور اب اس کا جائیداد میں کوئی حق نہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ "اگر کسی خاتون کو زبردستی سونڈے بخل پر مجبور کیا جائے تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔ عدالتیں اکثر ایسے دعوؤں کو مسترد کر دیتی ہیں اور خواتین کو ان کا قانونی حق دلوایا جاتا ہے۔ بہن کو جائیداد سے محروم کرنے پر بھائی کو دس سال تک قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے"۔
ان کے مطابق سونڈے بخل محض ایک روایت نہیں، بلکہ عورت کے حقِ زندگی پر حملہ ہے۔ جب تک خواتین خاموش رہیں گی، یہ ظلم روایت کے نام پر جاری رہے گا۔ شعور، مزاحمت اور قانون ہی وہ راستے ہیں جو اس خاموشی کو توڑ سکتے ہیں۔
شعور اور مزاحمت کی ضرورت
سونڈے بخل محض روایت نہیں بلکہ عورت کے حقِ زندگی پر حملہ ہے۔ جب تک خواتین خاموش رہیں گی، یہ ظلم روایت کے نام پر جاری رہے گا۔ شعور، مزاحمت اور قانون وہ واحد راستے ہیں جو اس خاموشی کو توڑ سکتے ہیں۔
گلزارین کی تنہائی اور مینا کی مزاحمت یہ واضح کرتی ہیں کہ سونڈے بخل کی داستان نہ صرف ظلم کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس کے خاتمے کی بھی امید رکھتی ہے۔
سونڈے بخل کی روایت نے سوات کی خواتین کی زندگی میں چھپے ہوئے زخم چھوڑے ہیں۔ یہ قربانی جوانی، شادی اور ذاتی خوابوں کی قیمت پر ہوتی ہے۔ لیکن نئی نسل کے بڑھتے شعور، خاندانی مدد اور قانونی آگاہی کے ذریعے اس روایت کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ سوات کے پہاڑی علاقوں میں جڑیں جمائے اس ظلم کا خاتمہ صرف خواتین کی آواز بلند کرنے، سماجی شعور پھیلانے اور قانون پر عمل درآمد کے ذریعے ممکن ہے۔
