خیبر پختونخوا میں نہروں اور ڈرینز کو آلودگی سے بچانے کے لیے بنایا گیا قانون گزشتہ 11 برسوں سے مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔ سخت سزاؤں کے باوجود اس دوران نہروں میں کچرا، پلاسٹک اور سیوریج کا گندا پانی ڈالنے پر کسی بھی شخص کو سزا نہیں دی گئی۔

 

نہروں میں گندگی پھینکنے سے آبی آلودگی بڑھ رہی ہے جبکہ ہر سال نہروں کی صفائی پر کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف صفائی کافی نہیں، جب تک قانون پر سختی سے عمل نہیں ہوگا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

 

یہ بھی پڑھیے:  پشاور: شہر کے مین ہولز کی خراب حالت، کھلے اور ٹوٹے ڈھکن کی تعداد منظر عام پر آ گئی

 

خیبر پختونخوا اسمبلی نے 2015 میں کینال اینڈ ڈرینج ترمیمی ایکٹ منظور کیا تھا۔ اس قانون کے تحت نہروں اور ڈرینز میں کچرا، پلاسٹک بیگز اور سیوریج ڈالنا قابلِ سزا جرم ہے۔ اس کے علاوہ نہروں کے کناروں پر قبضے اور غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی کی شقیں بھی شامل ہیں۔

 

ترمیم سے پہلے نہروں میں گندگی پھینکنے پر صرف 50 روپے جرمانہ اور ایک ماہ قید کی سزا تھی، لیکن 2015 کے بعد جرمانہ بڑھا کر 20 ہزار روپے اور ایک سے دو سال قید مقرر کی گئی۔ اس کا مقصد نہروں کو صاف رکھنا اور پانی کے بہاؤ میں رکاوٹیں ختم کرنا تھا۔

 

اس کے باوجود پشاور، نوشہرہ اور دیگر اضلاع میں نہری نظام شدید آلودگی کا شکار ہے۔ ورسک ڈیم سے نکلنے والی تین بڑی نہریں پشاور کے مختلف علاقوں سے گزرتی ہیں، جہاں ان میں کچرا اور سیوریج کا پانی شامل ہو رہا ہے۔

 

محکمہ آبپاشی کے مطابق صوبے میں 4 ہزار 60 کلومیٹر طویل نہری نظام موجود ہے، جس میں سے رواں سال 2 ہزار 30 کلومیٹر نہروں کی سالانہ صفائی کی جا رہی ہے۔ صرف پشاور میں اس مقصد کے لیے رواں سال 44 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد بجٹ منظور کیا گیا ہے۔

 

صوبائی وزیر ریاض خان کے مطابق صوبے کا نہری نظام 25 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی زمین کو سیراب کرتا ہے، جو صوبے کی معیشت اور خوراک کی ضروریات کے لیے نہایت اہم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نہروں کو آلودگی سے محفوظ نہ رکھا گیا تو زرعی پیداوار اور عوامی صحت دونوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

 

ماہرین اور شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور عوام میں آگاہی پیدا کی جائے تاکہ نہری نظام کو محفوظ رکھا جا سکے۔