پشاور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسلام آباد خودکش دھماکے کے سلسلے میں حملہ آور کے قریبی تعلق رکھنے والے چار افراد کو حراست میں لے لیا، جن میں خودکش حملہ آور کا بھائی اور والدہ بھی شامل ہیں۔ حراست میں لیے گئے افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

 

سرکاری ذرائع کے مطابق دھماکے میں ملوث سہولت کاروں اور معاونت فراہم کرنے والوں کے لیے اسپیشل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں کاؤنٹر ٹیررازم کے افسران بھی شامل ہیں۔

 

 حملہ آور کے موجودہ اور سابقہ ٹھکانوں سے متعلق معلومات پر کام جاری ہے، اور قومی شناختی کارڈ کے ایڈریس والے گھروں پر چھاپے بھی لگائے گئے ہیں، جن میں کچھ گرفتاریوں کا عمل بھی مکمل کیا گیا۔

 

دوسری جانب نوشہرہ کے علاقے حکیم آباد ڈھیری کٹی خیل میں دہشت گردوں نے پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا، 

جس کے نتیجے میں پولیس کے ایک افیسر شہید جبکہ دو زخمی ہوگئے۔

 

 پولیس کے مطابق پولیس اور سیکیورٹی فورسز اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کے سلسلے میں ٹارگٹڈ آپریشن کر رہی تھیں کہ اس دوران دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔

 

 فائرنگ کے تبادلے میں نوشہرہ کینٹ پولیس کے اے ایس آئی اعجاز خان  شہید ہوگیا۔

فائرنگ کے دوران ایک دہشتگرد ہلاک جبکہ باقی فرار ہو گئے۔ جن کی تلاش جاری ہیں۔