سید ندیم مشوانی 

 

نوشہرہ کے علاقے زیارت کاکاصاحب گل ڈھیری قبرستان میں نومولود بچے کو زندہ دفن کرنے کی کوشش مقامی نوجوان کی بروقت کارروائی سے ناکام بنا دی گئی۔ 

 

ملزمان میں ایک خاتون بھی شامل ہے جو نومولود بچے کو سخت سردی میں قبرستان میں چھوڑ کر موٹرکار میں فرار ہو گئے۔

 

گل ڈھیری گاؤں کے ناظم اور مقامی شہریوں نے فوری اقدام کرتے ہوئے نومولود بچے کو قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ منتقل کیا، جہاں بچے کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

 

قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس نوشہرہ کے چیئرمین پیڈیاٹرکس ڈاکٹر عرفان کے مطابق نومولود لاوارث بچے میں Harlequin Ichthyosis نامی شدید پیدائشی عارضہ پایا گیا ہے، تاہم ڈاکٹرز کی جانب سے بچے کی جان بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

 

سابق ناظم گل ڈھیری رحمان اللہ کے مطابق انہیں اطلاع ملی کہ ایک موٹرکار میں نامعلوم افراد نعش کو قبرستان لائے ہیں۔ موقع پر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ سخت سردی میں ایک قبل از وقت پیدا ہونے والا نومولود بچہ موجود تھا، جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعے کے بعد چائلڈ پروٹیکشن ایجنسی کو طلب کر لیا گیا۔

 

پولیس کے مطابق تھانہ بدرشی میں خاتون سمیت نامعلوم ملزمان کے خلاف دفعہ PPC 338-C کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ تفتیش جاری ہے۔

 

ڈپٹی کمشنر نوشہرہ عرفان اللہ محسود کے مطابق نومولود بچے کو سرکاری طور پر چائلڈ پروٹیکشن ایجنسی کے حوالے کر دیا گیا ہے، بچے کا ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اور قانونی کارروائی جاری ہے۔

 

یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں نوشہرہ کینٹ تھانے کی حدود میں کوڑے دان سے ایک نومولود بچے کی نعش شاپنگ بیگ میں ملی تھی، جبکہ فروری 2025 میں نوشہرہ کلاں کے گمبت بابا قبرستان میں ایک نومولود بچی کو زندہ دفن کیا گیا جسے مقامی افراد نے بروقت بچا لیا۔

 

 بعد ازاں پاکستان آرمی رسالپور چھاؤنی کے ایک میجر نے اس بچی کو باقاعدہ گود لے لیا۔ اسی طرح جہانگیرہ میں بھی ایک نومولود بچے کو قبرستان میں پھینکا گیا جسے عوام کی اطلاع پر بچا لیا گیا تھا

 

ذرائع کے مطابق نومولود بچوں کو قبرستانوں میں چھوڑنے کے واقعات میں اب تک کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ گزشتہ سال تین جبکہ سال 2026 میں یہ پہلا واقعہ رپورٹ ہوا ہے، تاہم چار واقعات میں سے صرف ایک واقعے میں مقدمہ درج کیا گیا۔