ٹی این این اردو - TNN URDU Logo
کلاؤڈ برسٹ کی پیشنگوئی ممکن مگر مشکل، مقامی سطح پر الرٹ سسٹم ناگزیر Home / خیبر پختونخوا,ماحولیات /

کلاؤڈ برسٹ کی پیشنگوئی ممکن مگر مشکل، مقامی سطح پر الرٹ سسٹم ناگزیر

کیف آفریدی - 20/08/2025 119
کلاؤڈ برسٹ کی پیشنگوئی ممکن مگر مشکل، مقامی سطح پر الرٹ سسٹم ناگزیر

کیف آفریدی 

 

پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک اس وقت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث موسمی تغیرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کہیں شدید گرمی تو کہیں غیرمعمولی بارشیں، سیلاب اور گلیشیئر پگھلنے کی رفتار میں اضافہ اور دیگر کئی موسمی تبدیلیاں شدید متاثر کر رہی ہے۔  خیبرپختونخوا میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کا سبب کلاوڈ برسٹ یعنی بادل کا پھٹنا ہیں۔ کیا یہ نئی تباہ کاریاں ہے؟ 

 

اگر دیکھا جائے تو سال 2025 میں بارش اور سیلابوں کے کئی ایسے واقعات رونما ہوئے۔ جس کو آسمانی بجلی اور بادل کے پھٹنے سے منسوب کرتے ہیں۔ جس میں بونیرکے علاقے، بابو سر ٹاپ، ناران، سوات اور باجوڑ او کے علاقے قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی جگہوں پر بارش کے ایسے واقعات ہوئے ہیں۔ لیکن یہ چند ایک بہت مشہور ہیں۔ اس سے سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بنے۔ اس دفعہ بونیر میں کلاؤڈ برسٹ نے زیادہ تباہی مچا دی ہے۔ پی ڈی ایم اے کی تازہ رپورٹ کے مطابق صوبہ میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 385 افراد جاں بحق اور 182 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں 299 مرد، 52 خواتین اور 34 بچے شامل جبکہ زخمیوں میں 145 مرد، 27 خواتین اور 10 بچے شامل ہے۔

 

پی ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق سیلاب سے زیادہ  متاثرہ ضلع بونیر میں  اب تک مجموعی طور پر جابحق افراد کی تعداد 228 اور صوابی میں 41 ہو گئی۔

 

کلاؤڈ برسٹ کیا ہے؟ اور یہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے کیوں بڑھ گیا ہے۔۔۔ 

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کلاوڈ برسٹ یعنی بادلوں کا پھٹنا ہوتا کیوں ہے، اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ کیا اس کے لئے کوئی الرٹ سسٹم ہو سکتا ہے۔ ایک بات ذہن میں رکھنی ہے کہ اچانک سیلاب کے آنے کے وجوہات صرف بادلوں کا پھٹنا نہیں ہوتا۔ اس کے اور بھی وجوہات ہو سکتے ہیں۔ کلکس میں گلیشیر کا پھٹنا شامل ہے۔ 

 

شعبہ ماحولیات جامعہ پشاور کے پروفیسر ڈاکٹر محمد نفیس نے بتایا کہ جب کسی جگہ جسکا رقبہ بیس سے تیس مربع کلومیٹر ہو، اس میں فی گھنٹہ سو ملی میٹر سے زیادہ بارش ہو، اس کو بادلوں کا پھٹنا کہتے ہیں۔ جبکہ گلیشیر کا پھٹنے سے بھی سیلاب آتے ہیں۔ 

 

بادل کا پھٹنا ایک خاص قسم کے بادلوں میں ہوتا ہے جس کو کیمولونمبس (cumulonimbus clouds) کہتے ہیں۔ یہ گھنے قسم کے بادل ہوتے ہیں جو ٹاور یا پہاڑ کی طرح اونچے دیکھائی دیتے ہیں۔ جو ایک ہزار میٹر سے تین ہزار میٹر تک کی بلندی تک پھیلے ہوتے ہیں۔ اس قسم کے بادل بننے کے لئے بڑے مقدار میں نمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ عموماً گرمیوں کے موسم، خاص کر مون سون سیزن میں بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا اس کے بننے کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ 

 

کیمولونمبس نامی بادلوں کا بننا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں اس کا بننا اور برسنا معمول کا کام ہے۔ خاص کر کوہ ہمالیہ اس کے لئے مشہور ہے۔ لیکن 2022 کے بعد اس کی شدت میں اضافے کو موسمیاتی تبدیلی سے منسلک کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے فضا میں نمی کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے بادل کے پھٹنے کے چانسیز زیادہ ہوتے ہیں۔

 

بادلوں کے پھٹنے کی پیشنگوئی ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عموماً چھوٹی سی جگہ میں بادل پھٹنے کے حالات رونما ہوتے ہیں۔ جس کی لمبائی اور چوڑائی دس کلومیٹر ہوتی ہے۔ اتنے کم ایریا کو کو سیٹلائٹ سے پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ عمل بہت تیز ہوتا ہے۔ اور پیشنگوئی کے لئے موقع نہیں ملتا۔ 

اس میں ہوتا ہوں ہے کہ بادل بہت تیزی سے اوپر کی طرف جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اگر بارش کے قطرے بنے بھی ہوں تو نیچے نہیں آسکتے۔ جونہی اوپر کی حرکت میں کمی آتی ہے، یا رک جاتی ہے، تو سارا پانی اچانک آزاد ہو کر نیچے ایک ساتھ گرنے لگتا ہے۔ یہ اتنی تیزی سے گرتا ہے کہ قطرے ایک دہار کی صورت میں نظر آتی ہے۔ جیسے کسی نے بہت سارے نلکے کھول دیئے ہوں۔ 

نقصانات

ٹی این این کو بتاتے ہوئے پروفیسر نفیس نے کہا کہ سب سے پہلا نقصان تو یہ ہے کہ بہت سارا پانی ایک ساتھ آجاتا ہے۔ جو اچانک سیلاب کا باعث بنتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں یہ اور بھی خطرناک ہوتا کیوں کہ یہاں پر سلوپ زیادہ ہونے کی وجہ سے پانی کا بہاؤ تیز ہوتا ہے۔ جس سے لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہوتا ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ سے پانی میں مٹی، ریت اور پتھر شامل ہو جاتے ہیں۔ جس سے پانی کی کثافت زیادہ ہو جاتی ہے اور پانی بھاری ہو جاتا ہے۔ جس سے یہ مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔

 

 ایک بات قابل غور ہے کہ گلیشیئرز کے پگھلنے کا تعلق براہ راست موسمیاتی تبدیلی سے ہے۔ گلیشیر یا اس سے متعلقہ جھیل جب پھٹتے ہیں تو اس میں بڑے بڑے پتھر آجاتے ہیں۔ جس سے زیادہ نقصان کا اندیشہ رہتا ہے۔ اتنے بڑے مقدار میں پانی جب دریاؤں میں شامل ہوتے ہیں۔ تو بڑے مقدار میں زمینی کٹاؤ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جس سے فصلیں تباہ ہو جاتی ہے۔ اور زرعی پیداوار میں کئی سالوں تک کمی آجاتی ہے۔ جو کہ بہت خطرناک صورتحال کا باعث بن جاتا ہے۔ 

ممکنہ بچاؤ

ڈاکٹر نفیس کہتے ہیں کہ بادلوں کا پھٹنا ایک قدرتی عمل ہے۔ اس پر انسان کا کسی قسم کا کنٹرول نہیں آ سکتا۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ان واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 2022 کے بنیاد پر یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ پاکستان میں سیلابوں کی شدت میں تین سو (300) سے پانچ سو فیصد (٪500) تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ بہت خطرناک پیشن گوئی ہے۔ اس سے پہلے یہ پیشن گوئی صرف 30 فیصد تھی۔ اس لئے ہمیں چاہیئے کہ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں۔ اور جہاں تک ممکن ہو اپنے آپ کو اس سے بچائیں۔ 

 

سب سے پہلے تو یہ کوشش کرنی ہے کہ گھر اور آبادی ندی نالوں سے دور رکھیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے دو سو فٹ تک دوری بتائی گئی ہے۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ پانچ سو فٹ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ اس لئے ہمیں اس کے بارے میں ضرور غور کرنا ہے۔

وقت پر پیشنگوئی یا پہلے سے آگاہی تو شائد ممکن نہ ہو۔ لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کہاں پر ایسا ہوتا ہے۔ ان جگہوں کے نقشے بنائی جائے۔ تاکہ خاص موسم میں ان علاقوں سے دوری اختیار کی جائے یا دوسرے حفاظتی اقدامات لئے جائیں۔ 

 

جہاں پر ایسے واقعات رونما ہونے ہوں، اس علاقے کے مکینوں کو چاہیئے کہ لائف جیکٹ ضرور گھر میں رکھیں۔ خاص کر بچوں اور خواتین کے لئے لائف جیکٹ ضروری ہے۔ جونہی مون سون سیزن شروع ہو جائے، لائف جیکٹ خاص جگہ پر آویزاں ہو۔ تاکہ بوقت ضرورت استعمال میں لائی جائے۔ 

پہاڑوں کو دبارہ سے سر سبز بنانے کی کوشش کریں۔ جہاں پر جنگلات نہیں ہوں گے۔ لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات وہاں زیادہ ہوتے ہیں۔ جس سے نقصان میں اضافہ ہوتا ہے۔

 

عام لوگوں کو ہنگامی تیاری کے بارے میں تعلیم دیں۔ اس سلسلے میں بادلوں کے اقسام سے متعلق علم لازمی ہے۔ بادل پھٹنے سے پہلے، اس کے دوران اور بعد میں مقامی لوگوں کو کیا کرنا ہے اس کی تربیت کرنا اہم ہے۔ اس سے ہم خوف و ہراس کو کم کر سکتے ہیں۔ بارش یا سیلاب کے دوران تیز، موثر، اور محفوظ ردعمل کو یقینی بنا سکتا ہے۔