ٹی این این اردو - TNN URDU Logo
سوات میں بارشوں کا خوف اور ذہنی دباؤ کی بڑھتی لہر Home / بلاگز,خیبر پختونخوا,صحت,ماحولیات /

سوات میں بارشوں کا خوف اور ذہنی دباؤ کی بڑھتی لہر

ایڈیٹر - 19/08/2025 143
سوات میں بارشوں کا خوف اور ذہنی دباؤ کی بڑھتی لہر

عظمیٰ اقبال 

گزشتہ کئی دنوں سے بونیر اور مینگورہ   کےمختلف علاقوں میں بارشوں نے زندگی کو   مفلوج کر رکھا ہے۔ لوگ ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں بادل پھٹنے یعنی کلاؤڈ برسٹ جیسا سانحہ پھر سے نہ ہو جائے۔ منگلور سے تعلق رکھنے والی 38 سالہ سمیعہ کہتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کمرے کے ایک کونے میں بیٹھ کر اس سوچ میں مبتلا رہتی ہے کہ بارش تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی کہیں   یہاں بھی بونیر جیسا سانحہ نہ ہو جائے اس کفیت نے انہیں شدید ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتتلا کیا ہوا ہے۔

 
سمیعہ کا کہنا ہے کہ جب منگلور کے قریب برساتی نالے میں سیلاب کا ریلا آیا تو مجھے یوں لگا کہ ہمارا گھر بھی کسی وقت بہہ جائے گا ہر رات بے چینی میں گزرتی ہے۔
سمیعہ کی طرح یہی صورتحال دوسری خواتین کی زندگیوں میں بھی جھلک رہی ہے۔ اسی علاقے سے تعلق رکھنے والی 3 بچوں کی ماں سدرہ کا کہنا ہے کہ جب بارش شروع ہوتی ہے تو میرا دل دھڑکنے لگتا ہے، مجھے لگتا ہے شاید یہ میری زندگی کا آخری دن ہوگا۔ پانی کا شور سن کر میں سخت ذہنی دباؤ میں آ جاتی ہوں۔

یہ خوف صرف لمحاتی نہیں بلکہ ذہنی صحت کو جکڑ لیتا ہے۔ کچھ خواتین تو بارش کا نام سنتے ہی شدید پریشانی میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ منگورہ سے تعلق رکھنے والی طالبہ عائشہ کہتی ہے کہ “جب بھی بونیر کے لوگوں کی مشکلات یاد  آتی ہیں تو میرا دل کسی کام کرنے کو نہیں چاہتا۔ ہر وقت ایک بوجھ سا رہتا ہے۔”


لیکن یہ دباؤ صرف خواتین پر نہیں مرد حضرات بھی ان حالات سے گزر کر ذہنی اذیت میں ہیں۔ صحافی اور سماجی کارکن حارث یوسفزئی اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں 
   بارشوں کے بعد متاثرہ لوگوں میں  راشن تقسیم کرتے وقت بزرگوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہ منظر ابھی تک میرے دل و دماغ پر نقش ہے۔ اسی دن سے مجھے رات کو نیند نہیں آتی ہر وقت دل بےچین سا رہتا ہے اور ایک عجیب سی کیفیت طاری رہتی ہے۔ سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ حکومت کی طرف سے کوئی سہولت موجود نہیں تھی، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ایک دوسرے کو سہارا دے رہے تھے یہ دیکھ کر میرا دل اور بھی زیادہ بوجھل ہوگیا

 

اسی طرح سوات کے بچے بھی اس صورتحال کا شکار ہیں ان کی معصوم سوچیں بارش اور سیلاب کے خوف میں الجھ کر رہ گئی ہیں۔ الاآباد سے تعلق رکھنے والی بخت زرین اپنے بیٹے کی حالت بتاتے ہوئے کہتی ہیں"میرا بچہ جب بھی اسکول جاتا ہے تو بار بار مجھ سے پوچھتا ہے، ‘امی! سیلاب تو مجھے بہا کر نہیں لے جائے گا نا؟"جب اسکول کی چھٹیوں کا اعلان ہوا تو ہم نے  سکون کا سانس لیا ۔ لیکن جب ہم اپنے بچوں کو بارش کے دوران گھر میں خوف سے کانپتے دیکھتے ہیں تو دل ٹوٹ جاتا ہے۔ میرا بچہ ہر روز پوچھتا ہے کہ امی! یہ سیلاب کب ختم ہوگا؟ ہم باہر کب جا سکیں گے؟


مسلسل بارشوں اور سیلاب کے خدشے نے نہ صرف گھروں کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں بلکہ لوگوں کے ذہنوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ بزرگوں کی نیند چھن گئیں ہیں، بچوں کی معصومیت خوف میں بدل گئی ہے اور خواتین ہر وقت بےچینی کی کیفیت میں ہیں۔ یہ حالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ محض ایک موسمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا ذہنی اور سماجی بحران ہے جس نے ہر فرد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔


یہ حالات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ حکومت کو محض ہنگامی صورتحال میں حرکت میں آنے کے بجائے پہلے سے عملی اقدامات کرنے چاہیں۔ عوام کو بروقت آگاہ کرنا، خطرناک علاقوں میں حفاظتی تدابیر اختیار کرنا اور ماحولیاتی مسائل پر سنجیدگی سے کام کرنا ناگزیر ہے۔ اگر وقت پر قدم نہ اٹھایا گیا تو یہ بارشیں اور سیلاب صرف گھروں کو نہیں بہائیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے ذہنوں پر بھی خوف اور عدم تحفظ کے نقوش چھوڑ جائیں گے۔
اب وقت ہے کہ حکومتی ادارے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ بارش ان علاقوں کے لیے پھر سے رحمت بن سکے زحمت نہیں۔