سماجی کارکن تبسم عدنان نے کہا ہے کہ خواتین کو جرگہ نظام میں باقاعدہ شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ خواتین کے مسائل اور مشکلات سے خود خواتین ہی بہتر طور پر آگاہ ہوتی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین کو ڈسٹرکٹ ریزولوشن کونسل (ڈی آر سی) میں نمائندگی دی جائے اور ضلعی انتظامیہ اس فیصلے پر فوری عملدرآمد یقینی بنائے۔
تبسم عدنان نے کہا کہ قبائلی اور پسماندہ علاقوں میں خواتین کو اپنے بنیادی حقوق کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جرگہ اور ڈی آر سی جیسے فورمز میں خواتین کی عدم نمائندگی کے باعث ان کے مسائل یک طرفہ طور پر نمٹائے جاتے ہیں، جو انصاف اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو عزت، وراثت، رائے اور حقِ مہر سمیت واضح حقوق عطا کیے ہیں اور کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ان حقوق کو محدود کرے۔
یہ بھی پڑھیے: باجوڑ: گرینڈ جرگہ، نکاح، خواتین کا مہر، جہیز اور سماجی رسومات پر فیصلے
انہوں نے باجوڑ میں حالیہ جرگے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک جرگے کی جانب سے خواتین کے حقِ مہر کی مقدار ایک تولہ سونا مقرر کرنا سراسر زیادتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شریعتِ اسلامی کے مطابق حقِ مہر عورت کا ذاتی حق ہے اور اس کا تعین اس کی رضا و منشا کے مطابق ہونا چاہیے، اس میں کسی قسم کی زبردستی یا سماجی دباؤ کی کوئی گنجائش نہیں۔
پاکستان کے پہلے خواتین جرگہ کی بانی اور سماجی کارکن تبسم عدنان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں یہ رواج عام ہو چکا ہے کہ مرد یا خاندان کے بزرگ حقِ مہر کا فیصلہ کرتے ہیں، جو نہ صرف غیر قانونی بلکہ خواتین کے بنیادی اور شرعی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے سماجی رویّوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو اگر مالی معاونت کے حصول کے لیے مختلف مراکز پر جانے کی اجازت ہے تو پھر اپنے حقوق کے لیے جرگہ یا دیگر فورمز پر جانے کو بے حیائی قرار دینا دوہرا معیار ہے۔
انہوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ خواتین کی شمولیت کو یقینی بنا کر جرگہ اور ڈی آر سی نظام کو مزید مؤثر، منصفانہ اور شریعت کے اصولوں کے مطابق بنایا جائے تاکہ خواتین کو انصاف تک مکمل رسائی حاصل ہو سکے۔
