وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ یہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے، غلط کام اور میرٹ کے خلاف جانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ میرٹ اور شفافیت پر پورا اترنے والی کمپنی کو کنٹریکٹ ملنے پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم غلط طریقے سے کنٹریکٹ لینے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے منصوبوں کے لیے کمپنیوں کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی، میرٹ اور مکمل کاغذات رکھنے والی کمپنیوں ہی کوالیفائی ہوئیں۔ نامکمل کاغذات، جعلی بینک گارنٹی اور سفارشوں کی بنیاد پر آنے والی کمپنیوں کو نااہل قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ غیر متعلقہ لوگ حکومتی اور محکمانہ امور میں مسلسل مداخلت کر رہے ہیں اور افسران کو ڈرا دھمکا رہے ہیں۔ این ایل سی کے سی اینڈ ڈبلیو منصوبوں میں ناقص کارکردگی اور کام نہ کرنے پر بطور اسپیشل اسسٹنٹ کچھ کنٹریکٹس منسوخ کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر: تیراہ و راجگال کے متاثرین کے مطالبات پر عمل نہ ہوا تو اے این پی کہاں کہاں دھرنے دے گی؟
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے افسران میرٹ، شفافیت، بہتر حکمرانی اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے بہترین کام کر رہے ہیں۔ میں اپنی کابینہ اور افسران کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہوں، افسران کو ڈرانے یا دھمکانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوامی مفادات میں بہتر سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال 130 ارب روپے کے ریونیو ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے سے زائد جمع کیے گئے، جبکہ رواں مالی سال 180 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیا ٹیکس عائد کیے بغیر 200 ارب روپے سے زائد ریونیو جمع کریں گے، یہی حقیقی عوامی خدمت اور عوامی مفادات ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان میں غلط فیصلے کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ ملک اور عوام کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں۔
انہوں نے وفاق کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اضافی بوجھ غریب عوام پر پڑ رہا ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں جس تیزی سے بڑھ رہی ہیں، اس سے لگتا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس کوئی واضح پالیسی نہیں۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ایک طرف پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور دوسری جانب قرضے لے کر ملک چلایا جا رہا ہے۔ 74 سال میں 43 ہزار ارب روپے قرضہ لیا گیا، جبکہ موجودہ حکومت نے پانچ سال میں قرضہ 97 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا۔ 74 سال میں لیے گئے قرضے سے زیادہ قرضہ موجودہ حکومت نے پانچ سال میں پاکستان پر چڑھا دیا، جس کا بوجھ غریب عوام کو اٹھانا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر اقتدار میں آنے والوں کی توجہ اپنی جیبیں بھرنے پر ہے، عوام کو ریلیف دینا ان کی ترجیح نہیں۔ غریب، مڈل کلاس اور سفید پوش طبقہ مشکلات کا شکار ہے اور لوگوں کے لیے دو وقت کا کھانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ کے حالیہ بیان کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی مفادات کے لیے قومی مفادات کو نقصان پہنچانا درست نہیں۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ کا بیان صرف ایک صوبے کے خلاف نہیں بلکہ ریاست پاکستان کے مؤقف کے خلاف ہے۔ پاکستان مخالف بھارتی مؤقف کو دنیا میں پذیرائی ملنے کی ایک وجہ ایسے بیانات بھی ہیں۔
محمد سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا کے خلاف وفاقی وزراء کے بیانات کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اور حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے کہ ہمارے ساتھ کیا کرنے جا رہے ہیں، کیا یہ خیبرپختونخوا کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ایک ادارے کا ڈی جی خیبرپختونخوا کے چیف ایگزیکٹو کے خلاف ویڈیوز چلا کر پریس کانفرنسز کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف عدلیہ کا ایک جج کمنٹس پاس کرتا ہے۔ کیا یہ پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں یا پاکستان کو کس طرف لے کر جانا چاہتے ہیں؟
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ پاکستان ہم سب کا ہے، چھوٹے صوبوں کے خلاف امتیازی رویہ نفرتیں بڑھائے گا، جو پاکستان اور اداروں کے لیے اچھا نہیں۔
