خیبر میں عوامی نیشنل پارٹی نے متاثرین تیراہ کے 37 نکاتی مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے اور متاثرین راجگال کے مسائل کے حل کے لیے مرحلہ وار احتجاجی اور قانونی لائحہ عمل کا اعلان کردیا۔

 

اے این پی نے 18 ستمبر کو باڑہ چوک میں پُرامن احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مطالبات پر خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی، متاثرین کو اپنی فصلوں تک واپسی کی اجازت نہ دی گئی اور وعدے کے مطابق امدادی پیکج جاری نہ کیا گیا تو 30 ستمبر سے قبل وزیراعلیٰ ہاؤس، گورنر ہاؤس، قلعہ بالاحصار اور کور کمانڈر ہاؤس کے سامنے بڑے پُرامن دھرنے دیے جائیں گے۔

 

یہ اعلان اے این پی ضلع خیبر کے صدر سفیر امن عبدالرزاق آفریدی نے باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں وفاقی افسران کیلئے بڑا پیکیج، کن اضلاع میں تعیناتی پر 250 فیصد الاؤنس ملے گا؟

 

عبدالرزاق آفریدی نے کہا کہ وادی تیراہ میدان اور راجگال کے متاثرین کو جانی و مالی نقصانات سمیت مختلف مشکلات کا سامنا ہے تاہم ان کے ساتھ کیے گئے وعدوں اور 37 نکاتی مطالبات پر تاحال خاطر خواہ عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

 

 

انہوں نے کہا کہ متاثرین کے گھروں، زمینوں، فصلوں اور دیگر املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ اس مقصد کے لیے اے این پی نے متاثرین کے نقصانات کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے خصوصی فارم جاری کردیا ہے جس کے ذریعے جانی و مالی نقصانات سمیت گھروں، زمینوں، فصلوں اور دیگر املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات جمع کی جائیں گی۔

 

پارٹی کے مطابق 14، 15 اور 16 ستمبر کو نامزد کیمپوں میں متاثرین تیراہ سے درخواستیں، شکایات، ڈیٹا اور نقصانات سے متعلق فارم جمع کیے جائیں گے جبکہ 17 ستمبر کو ملگری وکیلان کے ساتھ قانونی مشاورت کی جائے گی۔

 

اے این پی کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق 18 ستمبر کو باڑہ چوک میں پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ پارٹی نے متاثرین تیراہ و راجگال کے مطالبات کی حمایت کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی احتجاج میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

 

 

 اے این پی کے مطابق تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے جھنڈوں تلے اس احتجاج میں شریک ہوسکتی ہیں۔عبدالرزاق آفریدی نے واضح کیا کہ اے این پی کا احتجاج کسی حکومت کو گرانے، سیاسی بلیک میلنگ یا کسی جماعت کے خلاف نہیں ہوگا بلکہ متاثرین تیراہ کے جائز حقوق اور مطالبات کے حل کے لیے ہوگا۔

 

اے این پی کے مطابق اگر 18 ستمبر کے احتجاج کے بعد مطالبات پر خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی تو 30 ستمبر سے قبل وزیراعلیٰ ہاؤس، گورنر ہاؤس، قلعہ بالاحصار اور کور کمانڈر ہاؤس کے سامنے بڑے پُرامن دھرنے دیے جائیں گے۔

 

پارٹی رہنماؤں کے مطابق ان احتجاجی دھرنوں میں متاثرین تیراہ قرآن پاک کے ہمراہ شریک ہوں گے اور احتجاج اس وقت تک جاری رکھنے کا اعلان کیا جائے گا جب تک متاثرین کی باقاعدہ واپسی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا یا فصلوں اور دیگر نقصانات کے ازالے کے لیے مناسب نقد مالی معاونت فراہم نہیں کی جاتی۔

 

عبدالرزاق آفریدی نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود متاثرین تیراہ و راجگال کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن فورم پر آواز اٹھاتی رہی ہے۔ ان کے بقول پارٹی نے متاثرین کے ساتھ خوراک اور نقد امداد کی صورت میں تعاون بھی کیا اور ان کے مطالبات کے حق میں احتجاج بھی کیا۔

 

اے این پی ضلع خیبر نے واضح کیا کہ متاثرین تیراہ و راجگال کو مزید بے یقینی اور انتظار کی کیفیت میں نہیں رکھا جاسکتا۔ پارٹی کے مطابق متاثرین کی باعزت اور محفوظ واپسی، فصلوں اور املاک کے نقصانات کا ازالہ، امدادی پیکج اور دیگر مطالبات کے حل تک آئینی، قانونی اور جمہوری فورمز پر پُرامن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

 

پریس کانفرنس میں ضلعی نائب صدر صدیق چراغ، ضلعی ڈپٹی جنرل سیکریٹری عبدالواہاب، ضلعی ترجمان امیر شاہ، ضلعی فنانس سیکریٹری شبیر آفریدی، تحصیل باڑہ صدر عبدالواحد، جنرل سیکریٹری باڑہ سبحان اللہ، ملگری لیکوالان کے ضلعی صدر امید آفریدی، تحصیل باڑہ سالار خدائی خدمتگار آرگنائزیشن ستوری خان، ضلعی ننگیالے سالار قاضی خان اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔