حکومتِ خیبرپختونخوا نے عوام کو سستے اور معیاری آٹے کی فراہمی کے لیے صوبے بھر کی فعال فلور ملز کو سرکاری گندم کی فراہمی شروع کر دی ہے۔ فوڈ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق 27 جولائی 2026 سے روزانہ 2,000 میٹرک ٹن سرکاری گندم فلور ملز کو فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ 20 کلوگرام آٹے کی ریٹیل قیمت 2,520 روپے مقرر کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق سرکاری گندم 11,200 روپے فی 100 کلوگرام (باردانہ سمیت) کے نرخ پر فراہم کی جائے گی، جبکہ 20 کلوگرام آٹے کی ایکس مل قیمت 2,500 روپے مقرر کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: کوہاٹ: کیا غیر قانونی پلیسر گولڈ مائننگ شکردرہ میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کی وجہ بن رہی ہے؟
فوڈ ڈائریکٹوریٹ کا کہنا ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع کے لیے آبادی کے تناسب سے روزانہ گندم کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے تاکہ آٹے کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور کسی بھی علاقے میں قلت پیدا نہ ہو۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن کو روزانہ 20,090 آٹا بیگ کے ساتھ سب سے زیادہ کوٹہ دیا گیا ہے، جبکہ پشاور ڈویژن کے لیے 16,450، ہزارہ کے لیے 9,905، مردان کے لیے 7,420، کوہاٹ کے لیے 6,020، ڈی آئی خان کے لیے 5,145 اور بنوں ڈویژن کے لیے 4,970 آٹا بیگ مختص کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق آٹے کے معیار، نمی کی مقدار اور دیگر مقررہ معیارات پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔ شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے تمام فعال فلور ملز میں کم از کم 30 روز کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ محفوظ رکھنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ سرکاری گندم کی فراہمی کا مقصد عوام کو مناسب نرخوں پر معیاری آٹا فراہم کرنا، مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم رکھنا اور گندم کی تقسیم کے نظام کو مزید شفاف بنانا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے آٹے کی قیمتوں میں استحکام آئے گا اور صارفین کو ریلیف ملے گا۔
