خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کی تحصیل شکردرہ کے علاقے رحمان آباد میں غیر قانونی پلیسر گولڈ مائننگ، جرائم پیشہ عناصر کی مبینہ سرپرستی اور پولیس کے مبینہ یکطرفہ اقدامات کے خلاف مقامی مکینوں اور عمائدین نے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ غیر قانونی کان کنی میں ملوث گروہوں کی سرگرمیوں نے علاقے کا امن و امان تباہ کر دیا ہے، جبکہ قانون کی عملداری بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
رحمان آباد قوم کے عمائدین حمید اللہ اور طارق الحسن مہدی نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے حکام کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شکردرہ میں جاری غیر قانونی پلیسر گولڈ مائننگ کے باعث پورے علاقے کا سکون برباد ہو چکا ہے اور آئے روز قتل و غارت اور خون خرابے کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ضلع کرم میں نادرا دفاتر کیوں نہیں کھل سکے، بندش آٹھویں روز بھی برقرار
مقررین نے الزام عائد کیا کہ علاقے میں سرگرم نام نہاد "نظر گروپ" نہ صرف غیر قانونی گولڈ مائننگ میں ملوث ہے بلکہ مقامی آبادی سے جبراً بھتہ بھی وصول کر رہا ہے۔

ان کے مطابق چند روز قبل مذکورہ گروہ کی فائرنگ سے کئی مقامی افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد جب مقامی افراد نے مزاحمت کی تو دونوں اطراف کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے، جبکہ کئی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ مقامی پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کے بجائے یکطرفہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اصل ملزمان کو گرفتار کرنے کے بجائے رحمان آباد کے معزز عمائدین اور بے گناہ شہریوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے اور ان کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی گئی، جو ان کے بقول سراسر ناانصافی ہے۔
مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے پاک فوج اور دیگر حساس ریاستی اداروں سے بھی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مقامی پولیس امن و امان قائم کرنے کے بجائے مبینہ طور پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر رہی۔
انہوں نے انسپکٹر جنرل آف پولیس سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، پولیس کے مبینہ یکطرفہ اقدامات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
مقررین نے خبردار کیا کہ اگر بے گناہ افراد کے خلاف درج مقدمات فوری طور پر ختم نہ کیے گئے اور غیر قانونی گولڈ مائننگ میں ملوث عناصر، بالخصوص نظر گروپ، کے خلاف سخت کارروائی نہ کی گئی تو شکردرہ میں خون خرابے کا ایک اور بڑا واقعہ پیش آ سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ اور پولیس پر عائد ہوگی۔
واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر کوہاٹ کی جانب سے ضلع میں پلیسر گولڈ مائننگ پر دفعہ 144 نافذ ہے، تاہم مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے باوجود ایک گروہ بدستور غیر قانونی کان کنی میں مصروف ہے۔
دوسری جانب پولیس ترجمان نے ٹی این این کو بتایا کہ پولیس مکمل طور پر غیر جانبدار ہے اور قانون کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
پولیس ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈی پی او کوہاٹ رائے مظہر اقبال نے پولیس افسران کو ہدایت جاری کی ہے کہ قانون کی عملداری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور تمام معاملات قانون کے مطابق نمٹائے جائیں۔
