ضلع چارسدہ کے جوڈیشل کمپلیکس میں بدھ کے روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں پولیس کی حراست میں لائے گئے ملزم کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔

 

 یہ واقعہ عدالتی احاطے کے اندر اس وقت پیش آیا جب ملزم اعزاز ولد صفدر کو جیل سے چالان کے ذریعے پیشی کے لیے عدالت لایا گیا تھا۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

 

پولیس حکام کے مطابق مقتول نے تقریباً چھ ماہ قبل ملزم کے بھائی واصف کو قتل کیا تھا، جس کے باعث دونوں فریقین کے درمیان پرانی دشمنی چلی آ رہی تھی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ فائرنگ میں ملوث ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا اور وہ اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔

 

تاہم، عدالتی احاطے جیسے حساس اور سیکیورٹی حصار میں واقع مقام پر اس نوعیت کا واقعہ پیش آنا وکلاء، شہری حلقوں اور صحافتی برادری میں شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ جب جوڈیشل کمپلیکس میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور متعدد اہلکار تعینات ہوتے ہیں تو اسلحہ اندر کیسے پہنچا؟

 

چارسدہ بار ایسوسی ایشن کے صدر مجیب الرحمان ایڈوکیٹ نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “اگر جوڈیشل کمپلیکس جیسے حساس مقام پر، جہاں درجنوں پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں، کوئی شخص محفوظ نہیں تو یہ سیکیورٹی نظام کی کھلی ناکامی ہے۔"

 

یہ بھی پڑھیے: چارسدہ: مستورات کے تنازع پر فائرنگ، 4 افراد جاں بحق

 

انہوں نے مزید کہا کہ بار بار پولیس کو مکمل تلاشی کے عمل کو یقینی بنانے کا کہا جاتا ہے، وکلاء، منشیوں اور سائلین کی بھی تلاشی لی جاتی ہے، مگر اس کے باوجود اسلحہ کا اندر پہنچ جانا انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ طے شدہ ایس او پیز پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

 

بار صدر نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ملزم کورٹ روم کے اندر واردات کر سکتا ہے تو ججز، عدالتی عملے اور وکلاء کی جانیں بھی خطرے میں ہیں۔ہم جوڈیشل کمپلیکس کے اندر پولیس کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔

 

انہوں نے انکوائری نظام پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہر واقعے کے بعد انکوائری تو مقرر کی جاتی ہے، مگر نہ کسی کو سزا ملتی ہے اور نہ ہی ذمہ داروں کا تعین ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات بار بار رونما ہو رہے ہیں۔

 

چارسدہ کے سینئر صحافی سید شاہ رضا شاہ نے بھی اس واقعے کو ضلعی پولیس کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہونے والے ہر فرد کی سر سے پاؤں تک تلاشی لی جاتی ہے، ایسے میں اسلحہ لے جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیکیورٹی میں یا تو سنگین غفلت برتی گئی یا پھر کوئی اندرونی کمزوری موجود ہے۔

 

انہوں نے ڈی پی او چارسدہ کی کمانڈ اینڈ کنٹرول پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈی پی او کی کمانڈ اینڈ کنٹرول کی ناکامی ہے۔ اس سے پہلے بھی واقعات ہو چکے ہیں، مگر نہ سسٹم بدلا اور نہ ذمہ داروں کا احتساب ہوا۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر نسبتاً چھوٹے واقعات میں یہ صورتحال ہے تو خدانخواستہ کسی بڑے واقعے کی صورت میں کیا ہوگا؟ ان کے مطابق یہ صورتحال عوامی اعتماد کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

 

واضح رہے کہ 8 اکتوبر 2025 کو بھی چارسدہ جوڈیشل کمپلیکس کے سامنے دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں تین افراد جاں بحق اور چار زخمی ہوئے تھے، جبکہ 2021 میں کمپلیکس کے اندر دو مختلف واقعات میں ایک خاتون سمیت چار افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

 

 مسلسل پیش آنے والے ان واقعات نے عدالتی عملے، وکلاء اور سائلین میں عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

 

چارسدہ بار ایسوسی ایشن نے آئی جی خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ جوڈیشل سیکیورٹی کا فوری طور پر ازسرنو جائزہ لیا جائے، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور عملی اقدامات کے ذریعے عدالتی احاطے کو محفوظ بنایا جائے۔

 

تاہم سینئر صحافی شاہ رضا کے مطابق عدالتی احاطے کے اندر ملزم کی گرفتاری کو “کامیابی” قرار دینا مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ اصل سوال یہ ہے کہ فائرنگ کی نوبت کیوں آئی اور اسلحہ اندر کیسے پہنچا۔