رعناز
آج کے جدید دور میں جہاں خواتین ہر شعبہ زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں، وہی ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ خصوصاً جب بات خواتین کی میٹرنٹی (زچگی) لیو کی آتی ہے، تو سرکاری اداروں اور نجی اداروں کے رویے میں ایک واضح فرق نظر آتا ہے۔
پاکستان میں سرکاری ملازمت پیشہ خواتین کو میٹرنٹی لیو کا قانونی حق حاصل ہے۔ حکومت پاکستان کے قواعد کے مطابق خواتین کو زچگی کے دوران 90 دن کی تنخواہ سمیت چھٹی دی جاتی ہے، اور اس دوران ان کی نوکری کو مکمل تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ بعض اداروں میں اس کے علاوہ بھی مزید سہولیات دی جاتی ہیں، مثلاً کام کی نرمی، طبی سہولیات، اور کبھی کبھار بچوں کی نگہداشت کے لیے نرسری کی سہولت۔
یہ سہولیات خواتین کی صحت، بچے کی پرورش، اور خاندان کے سکون کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ریاست کا یہ قدم قابل تعریف ہے کیونکہ یہ ماں بننے کے قدرتی عمل کو ایک بوجھ کے بجائے ایک اہم سماجی فریضہ سمجھتا ہے۔
اس کے برعکس نجی اداروں میں کام کرنے والی خواتین کو ایک بالکل مختلف اور اکثر تکلیف دہ صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب کوئی خاتون میٹرنٹی لیو کی درخواست دیتی ہے تو اکثر کمپنی مالکان یا ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے منفی رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ان سے یا تو استعفیٰ دینے کا کہا جاتا ہے، یا انہیں غیر اعلانیہ طور پر نکال دیا جاتا ہے، یا پھر چھٹی کے دنوں میں تنخواہ بند کر دی جاتی ہے۔
افسوس اور نہایت ہی افسوس کی بات ہے۔کئی خواتین کو خوف ہوتا ہے کہ اگر وہ چھٹی مانگیں گی تو ان کی جگہ کسی اور کو رکھ لیا جائے گا، یا واپس آنے پر ان کا عہدہ کم کر دیا جائے گا۔ ان میں سے اکثر کو زچگی کے دوران بھی کام پر آنا پڑتا ہے تاکہ نوکری بچی رہے۔
مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ آخر یہ امتیازی سلوک کیو ں یہ سوال ایک اہم معاشرتی اور قانونی نکتہ اٹھاتا ہے آخر سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان یہ فرق کیوں ہے؟ کیا نجی اداروں کی خواتین ملازمین انسان نہیں؟ کیا ان کا ماں بننے کا حق کوئی غیر ضروری مطالبہ ہے؟ کیا ہم نے کبھی اس رویے کے وجوہات کے بارے میں سوچا ہے۔
اس امتیاز کی چند بنیادی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں
پاکستان میں لیبر لاز موجود ہیں، جن میں پرائیویٹ اداروں کو بھی خواتین کو میٹرنٹی لیو دینے کا پابند کیا گیا ہے، مگر ان قوانین کا اطلاق کمزور ہے۔ زیادہ تر نجی کمپنیاں قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں، اور کوئی ان سے بازپرس نہیں کرتا۔نجی ادارے اکثر میٹرنٹی لیو کو ایک اضافی مالی بوجھ سمجھتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ اگر ایک خاتون کو تین ماہ کی تنخواہ سمیت چھٹی دی گئی، تو کمپنی کا مالی نظام متاثر ہوگا۔
بدقسمتی سے کچھ کاروباری حلقوں میں آج بھی خواتین کو صرف عارضی ورک فورس سمجھا جاتا ہے، جنہیں صرف اس وقت تک برداشت کیا جاتا ہے جب تک وہ پوری طرح کارآمد ہوں۔بہت سی خواتین خود بھی اپنے حقوق سے واقف نہیں ہوتیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اگر نوکری چھن گئی تو ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچے گا، لہٰذا وہ چپ رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔
کبھی ہم نے اس مسئلے کے حل کے بارے میں سوچا ہے ؟ آئیے زرا اس بارے میں بھی سوچتے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ لیبر لاز کو نہ صرف بہتر بنائے بلکہ ان پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ ہر نجی ادارے کو پابند کیا جائے کہ وہ خواتین کو میٹرنٹی لیو دے، اور اگر کوئی ادارہ اسکی خلاف ورزی کرے تو اس پر جرمانے کئے جائیں۔خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق سے آگاہ ہوں، اور اگر ان کے ساتھ زیادتی ہو تو لیبر کورٹس یا خواتین کے تحفظ کے اداروں سے رجوع کریں۔میڈیا، تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں اس مسئلے پر بھرپور مہم چلائیں تاکہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کو روکا جا سکے۔
کمپنیوں کو سمجھنا چاہیے کہ ایک خوشحال اور مطمئن خاتون ملازم ادارے کے لیے ایک اثاثہ ہوتی ہے، نہ کہ بوجھ۔ بہتر ورک لائف بیلنس، میٹرنٹی لیو، اور بچوں کی نگہداشت کی سہولیات فراہم کر کے وہ ایک مثبت کام کا ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔
خواتین کا ماں بننا ایک قدرتی، فطری، اور معاشرتی فریضہ ہے، نہ کہ جرم۔ اگر سرکاری ادارے میٹرنٹی لیو کو عزت دیتے ہیں، تو نجی اداروں کو بھی اسی طرح خواتین کا احترام کرنا چاہیے۔ میٹرنٹی لیو کسی احسان کا نام نہیں بلکہ یہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔
ہمیں بحیثیت قوم یہ سوچنا ہوگا کہ ہم کب تک اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ ایسا امتیازی سلوک کرتے رہیں گے؟ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس تفریق کو ختم کریں اور ہر خاتون کو عزت، تحفظ، اور سہولت دیں، چاہے وہ کسی بھی ادارے میں کام کرتی ہو۔