کالام میں ہر گزرتے سال سیاحتی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، نئے ہوٹل اور رہائشی مراکز قائم ہو رہے ہیں اور سیاحوں کے لیے سہولیات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

 

 سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں مئی سے جولائی کے دوران 26 لاکھ سیاحوں نے سوات کا رخ کیا، جبکہ 2026 میں عیدالاضحیٰ کی پانچ روزہ تعطیلات کے دوران سوات میں 4 لاکھ 16 ہزار 794 سیاح ریکارڈ کیے گئے۔ 

 

بڑھتی سیاحت کے ساتھ جہاں مقامی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں کچرے اور گندے پانی کو ٹھکانے لگانے کا سوال بھی اہم ہوتا جا رہا ہے۔

 

 

 کالام میں دریائے سوات کے کنارے قائم ہوٹلوں اور آبادیوں سے نکلنے والے گندے پانی اور کچرے کے دریا تک پہنچنے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ سیاحت کے بڑھتے دباؤ کے ساتھ دریا کو آلودگی سے بچانے کے انتظامات کہاں تک مؤثر ہیں؟

 

کالام میں دریائے سوات کا صاف، سبز مائل پانی اور اس کے کناروں کی ہریالی ایک خوبصورت منظر پیش کرتی ہے، لیکن یہی دریا جب کالام سے نیچے کی طرف بہتا ہے تو اس کا رنگ بدلنے لگتا ہے۔ بعض مقامات پر پانی بھورا دکھائی دیتا ہے، بدبو محسوس ہوتی ہے اور کناروں پر کچرا بھی نظر آتا ہے۔

 

جامعہ سوات کے شعبہ صحافت و ابلاغِ عامہ کے لیکچرار اور پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر ارشد رحمان کے مطابق تقریباً 20 سال پہلے دریائے سوات کا پانی مجموعی طور پر زیادہ صاف اور شفاف تھا اور پورا سوات سرسبز دکھائی دیتا تھا، تاہم وقت کے ساتھ دریا کے پانی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

 

 

وہ کہتے ہیں کہ کالام اور بلیو واٹر سی کے مقام پر دریائے سوات کا پانی اب بھی نسبتاً سبز اور صاف دکھائی دیتا ہے، لیکن جیسے  دریا نیچے کی طرف آتا ہے، پانی کا رنگ تبدیل ہوتا جاتا ہے اور بعض مقامات پر یہ بھورا دکھائی دیتا ہے۔

 

 ان کے بقول بعض جگہ پانی کی کیفیت ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے ماربل کی فیکٹری سے آنے والا پانی دریا میں شامل ہو رہا ہو۔

ڈاکٹر ارشد کے مطابق کالام کے متعدد ہوٹلوں سے نکلنے والا سیوریج، واش رومز کا گندا پانی اور دیگر فضلہ دریائے سوات میں شامل ہونے کے خدشات موجود ہیں، جبکہ بحرین میں جانوروں کے ذبح سے پیدا ہونے والی گندگی بھی پانی تک پہنچ رہی ہے۔

 

 ان کا کہنا ہے کہ بعض گھروں سے نکلنے والا گندا پانی بھی نالوں کے ذریعے دریا تک پہنچتا ہے اور اس کا اثر نیچے کے علاقوں میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

 

 

وہ مزید کہتے ہیں کہ ایک وقت میں دریائے سوات کے کنارے درخت، ہریالی اور صاف پانی لوگوں کے لیے خاص کشش رکھتے تھے۔ لوگ دریا کنارے پکنک مناتے، تقریبات اور مختلف پروگرام منعقد کرتے اور اس کے صاف پانی سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ 

 

ان کے مطابق سوات کی پہچان صرف اس کے پہاڑوں اور ہریالی سے نہیں بلکہ اس کے صاف دریا اور پانی سے بھی جڑی رہی ہے۔دریا میں بڑھتی آلودگی کے اثرات صرف پانی کے رنگ اور بدبو تک محدود نہیں رہے بلکہ آبی حیات بھی متاثر ہوئی ہے۔ 

 

 

ڈاکٹر ارشد کے مطابق سوات مچھلیوں کے حوالے سے بھی مشہور رہا ہے، جبکہ چھوٹی مچھلیاں، جنہیں مقامی زبان  میں ’’کریڑی ‘‘ کہا جاتا ہے، مقامی ماہی گیر پکڑ کر بازاروں میں فروخت کرتے تھے۔ ان کے بقول گندے پانی اور آلودگی کے باعث ان آبی حیات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔دریا کی موجودہ حالت کا مشاہدہ کرنے والے سیاح بھی آلودگی کی شکایت کرتے ہیں۔

 

 کراچی سے تعلق رکھنے والی سیاح صائمہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے دریا کے کنارے شاپر، پلاسٹک کی بوتلیں اور ہوٹلوں کا بچا ہوا کھانا دیکھا، جبکہ پانی بھی اب صاف دکھائی نہیں دیتا ۔

 

 

صائمہ کے مطابق انہوں نے ایک ہوٹل کا پائپ بھی دیکھا جو براہِ راست دریا کی جانب تھا، جبکہ بعض لوگ گھروں کا کچرا لا کر دریا کے کنارے پھینک رہے تھے۔

 

 وہ کہتی ہیں کہ سوات  اپنی قدرتی خوبصورتی کے باوجود دریا کی ایسی حالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے اور اگر دریا ہی آلودہ ہوگا تو سیاحوں کے لیے اس علاقے کی کشش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

 

 

ماہرین صحت کے مطابق آلودہ پانی کا مسئلہ صرف ماحول تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانی صحت کو بھی متاثر کرتا ہے۔

 

 سوات سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد حسین کے مطابق اگر ہوٹلوں کا سیوریج، عام کچرا اور دیگر آلودگی دریا میں شامل ہو تو پانی میں جراثیم اور مختلف مضر اجزا شامل ہو تے ہیں، جس سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اے ، اسہال اور پیٹ کے مختلف انفیکشنز کا خطرہ بڑھتا ہے۔

 

 

ڈاکٹر محمد حسین کا کہنا ہے کہ ایسے پانی سے نہانے یا وضو کرنے کی صورت میں جلد اور آنکھوں کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں، جبکہ بچوں اور بزرگوں پر آلودہ پانی کے اثرات زیادہ سنگین ہو تے ہیں۔

 

 ان کے مطابق بچوں میں شدید اسہال اور پانی کی کمی جبکہ حاملہ خواتین میں ہیپاٹائٹس ای خطرناک ہو سکتا ہے، جبکہ طویل عرصے تک آلودہ پانی استعمال کرنے سے جگر اور گردوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔ان کے مطابق اگر آلودہ پانی زرعی زمینوں یا سبزیوں تک پہنچے تو اس کے جراثیم خوراک کے ذریعے بھی انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں، جس سے  پیٹ کے امراض اور دیگر بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔

 

 

دوسری جانب ٹی ایم اے بحرین  ( واضح رہے کہ کالام، واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی (ڈبلیو ایس ایس سی) کے دائرۂ کار میں شامل نہیں۔ یہاں صفائی اور کچرے کے انتظام کی ذمہ داری تحصیل میونسپل انتظامیہ (ٹی ایم اے) بحرین کے ساتھ اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی  ہے۔) کا کہنا ہے کہ کالام میں صفائی اور کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ 

 

ٹی ایم اے بحرین کے فوکل پرسن اعجاز علی شاہ کے مطابق کالام میں ہوٹلوں، گھروں، بازاروں اور دیگر سیاحتی مقامات سے پیدا ہونے والے کچرے کے لیے مختلف مقامات پر مقررہ کچرا جمع کرنے کے مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں ڈسٹ بن اور کچرے کے بڑے کنٹینر رکھے گئے ہیں۔

 

 

ان کے مطابق ٹی ایم اے کا صفائی عملہ گاڑیوں کے ذریعے ان مراکز سے روزانہ کچرا اٹھا کر مقررہ مقام پر منتقل کرتا ہے، جبکہ کالام بازار، اوشو فارسٹ اور دیگر اہم سیاحتی مقامات پر معمول کی صفائی بھی کی جاتی ہے ، اور کسی شکایت کی صورت میں فوری کارروائی کی جاتی ہے۔

 

اعجاز علی شاہ کے مطابق کالام سے جمع ہونے والے کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے ٹی ایم اے بحرین نے ایک مقررہ ڈمپنگ سائٹ کرائے پر حاصل کی ہے، جہاں مختلف مقامات سے جمع کیا گیا کچرا منتقل کیا جاتا ہے۔

 

دریائے سوات میں گندے پانی کے اخراج سے متعلق ٹی ایم اے بحرین کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کالام کے ہوٹلوں اور دریا کے کنارے واقع رہائشی آبادیوں کا سروے بھی کیا گیا، جس کے دوران سیپٹک ٹینکس کی موجودگی اور صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

 

 

 اعجاز علی شاہ کے مطابق زیادہ تر ہوٹلوں میں سیپٹک ٹینکس موجود ہیں، جبکہ جہاں مناسب انتظام نہیں تھا وہاں مالکان کو گندے پانی کے براہِ راست اخراج کی روک تھام اور سیپٹک ٹینک نصب کرنے کی ہدایات دی گئیں۔

 

ان کے مطابق دریا کے قریب واقع ہوٹلوں، کاروباری مراکز اور رہائشی آبادیوں کو یہ بھی واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ دریا میں کچرا پھینکنے، گندگی ڈالنے یا گندے پانی کا غیر قانونی اخراج کرنے کی صورت میں متعلقہ قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

 

تاہم ٹی ایم اے بحرین کے مطابق  کالام میں صفائی کی ذمہ داری صرف ایک ادارے تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق اے ڈی لوکل گورنمنٹ اور ویلج کونسل کے کارکن بھی صفائی کے عمل میں حصہ لیتے ہیں، جبکہ اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی کالام میں صفائی کی ذمہ داری میں شریک ہے۔

 

 ٹی ایم اے کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام سے اب تک صفائی کے عمل میں اس کی عملی شرکت نظر نہیں آئی۔

 

کالام کی بڑھتی سیاحت کے ساتھ دریائے سوات کا صاف رہنا اس وادی کی خوبصورتی اور سیاحتی کشش کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ایک طرف نئے ہوٹل اور سیاحتی سہولیات بڑھ رہی ہیں تو دوسری طرف گندے پانی اور کچرے کے دریا تک پہنچنے کے خدشات بھی موجود ہیں۔ 

 

اس لیے کالام میں سیاحت کے فروغ کے ساتھ دریا، آبی حیات اور ماحول کے تحفظ کے لیے مؤثر انتظامات بھی ضروری ہیں، تاکہ سیاحوں کی بڑھتی آمد کے ساتھ سوات کا یہ قدرتی حسن بھی برقرار رہ سکے۔