گلگت بلتستان انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 10 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) 4 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
آزاد امیدواروں، جن میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار بھی شامل ہیں، نے مجموعی طور پر 7 نشستیں جیت لی ہیں، جبکہ ایک نشست مجلس وحدت مسلمین کے حصے میں آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سہیل آفریدی اور مولانا فضل الرحمان کن معاملات پر ایک پیج پر آگئے؟
نتائج کے بعد گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اتحاد سے حکومت بننے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ اتحادی سیٹ اپ میں وزیراعلیٰ کا عہدہ پیپلز پارٹی جبکہ گورنر کا منصب مسلم لیگ (ن) کو مل سکتا ہے۔ وزارتوں کی تقسیم کا فارمولا 60/40 ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے انتخابی بے ضابطگیوں اور امن و امان کی صورتحال کے باعث دو حلقوں کے بعض پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کالعدم قرار دے دی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ GBA-15 دیامر-I کے فیمیل پولنگ اسٹیشن لوشی/جوشی تھک میں پتھراؤ، فائرنگ اور کشیدہ صورتحال کے باعث متعدد ووٹرز حق رائے دہی استعمال نہ کر سکے، جس کے بعد یہاں دوبارہ پولنگ 15 جون 2026 کو کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسی طرح حلقہ GBA-16 کے تین پولنگ اسٹیشنوں، گیچی، تھور کھایا اور بی ایچ یو تھور سری، میں بھی مبینہ دھاندلی اور انتخابی شکایات کے باعث پولنگ کالعدم قرار دے کر 15 جون کو دوبارہ ووٹنگ کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
