خیبر پختونخوافیچرز اور انٹرویو

گلالئی کے ”بلڈ ہیروز” کورونا اور تھیلیسیمیا مریضوں کے محسن!

سلمان یوسفزے

”بابا کو دل کا دورہ پڑا تھا اور ڈاکٹروں نے ہمیں آپریشن کرنے کو کہا جس کے لئے ‘اے نیگیٹو’ خون کے چار بیگز کی ضرورت تھی، دو بیگز خون میرے کزنز نے دیئے اور دو مزید درکار تھے جس کے لئے میں نے بلڈ ہیروز سے رابط کیا اور انہوں نے سرجری سے ایک رات پہلے ہمیں دو بیگز خون فراہم کیا۔”

اسلام آباد میں مقیم لکی مروت سے تعلق رکھنے والے اسد زمان کے مطابق کامیاب آپریشن کے بعد ان کے والد صحتیاب ہو چکے ہیں اور اب وہ پہلے سے زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں ۔

بلڈ ہیروز خیبر پختونخوا کا ایک غیرسرکاری فلاحی ادارہ ہے جس کا مقصد ان مریضوں کی زندگی بچانا ہے جن کو خون کی اشد ضرورت ہو۔

خیبر پختونخوا کے علاقے لکی مروت سے تعلق رکھنے والی بلڈ ہیروز کی سربراہ اور خیبر میڈیکل کالج پشاور کی طالبہ گلالئی ارشد کے مطابق انہوں نے پہلے بھی اپنے کالج میں مختلف مریضوں کیلئے بلڈ کمیپس لگائے تھے لیکن جب پچھلے سال اپریل کے مہینے میں لاک ڈاؤن نافذ ہوا اور کالج بند ہونے کے بعد وہ گھر چلی گئیں تو اس دوران انہیں مختلف علاقوں سے فون کالز موصول ہونا شروع ہوئے، یہ وہ لوگ تھے جنہیں اپنے مریضوں کو لاک ڈاؤن کی وجہ سے بروقت خون کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

ٹی این این سے بات کرتے ہوئے گلالئی نے بتایا کہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا کہ ہم ان مریضوں کیلئے بلڈ کیمپ لگاتے اور انہیں بروقت خون فراہم کرتے تاہم اس وقت میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا کہ کیوں نا ہم سوشل میڈیا کو اس کام کیلئے استعمال کریں۔

 

”اسی وقت میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ یہ آئیڈیا شیئر کیا اور ہم نے سوشل میڈیا کے ذریعے بلڈ ہیروز کے نام سے کمپین شروع کی جو تین ہفتوں تک جاری رہی، ہم نے پوسٹ، پوسٹر اور مختلف ویڈیوز بنائیں جس سے نہ صرف ہمیں 143 لوگوں نے خون فراہم کیا بلکہ 164 افراد ہمارے پاس رجسٹرڈ ہوئے اور مختلف علاقوں میں دو تین بلڈ کمپیس بھی لگ گئے۔”

گلالئی کے مطابق رمضان اور عید کی وجہ سے ان کا کام رک گیا تھا لیکن اس دوران کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کیلئے پلازمہ تھراپی کا علاج شروع ہوا جس میں کورونا وائرس سے صحتیاب مریضوں سے پلازمہ نکال کر کسی دوسرے کورونا وائرس کے شکار مریض کو لگایا جاتا تھا، ‘پھر ہم نے اس پر کام شروع کیا جس میں ہم پہلی دفعہ خیبر پختونخوا کی سرحد سے باہر نکلے اور اس دوران خیبر پختونخوا سمیت پنجاب، اسلام آباد اور سندھ کے رضاکاروں نے ہمیں جوائن کیا اور ہم نے 45 دنوں میں 700 پلازمہ اور 500 بلڈز بیگزر ضرورت مند مریضوں تک پہنچائے۔”

بلڈ ہیروز سے رابط کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟

گلالئی ارشد کے مطابق ہم نے واٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر بلڈ ہیروز کے نام سے پیج بنائے ہیں اور جس کو بھی خون کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہمیں اپنا پیغام بھیج دیتے ہیں جس کے بعد ہمارے ممبرز ان کو کال کرتے ہیں اور ساری معلومات حاصل ہونے کے بعد ہم سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں اور ڈونرز سے رابط کرتے ہیں اور اسی طرح ڈونر خود جا کر متعلقہ مریض کو خون دیتے ہیں۔

ان کے بقول ہم نے طریقہ کار کو بہت آسان بنایا ہے جس میں ڈونرز ہمیں نہیں بلکہ متعلقہ مریض کو خون فراہم کرتے ہیں اور مریض کو بروقت خون فراہم ہونے سے ڈونر کا اعتماد بحال رہتا ہے۔

بلڈ ہیروز کے مقاصد کیا ہیں؟

گلالئی ارشد کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلا مقصد لوگوں کو خون عطیہ کرنے کے حوالے سے آگاہ کرنا ہے کیونکہ جب تک لوگوں میں اس حوالے سے آگاہی نہیں ہو گی تو اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں، ‘ اب ظاہر سی بات ہے کوئی بندہ پوری زندگی اکیلے یہ کام نہیں کر سکتا اس لئے ہماری کوشش ہوتی ہے کہ لوگ اس حوالے سے اتنے زیادہ آگاہ ہو جائیں کہ وہ مستقبل میں خود جا کر کسی ہسپتال میں ضرورت مندمریض کو خون عطیہ کریں اور کسی مریض کی جان بچائیں۔’

وہ کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا کے علاوہ ہم مختلف انسٹی ٹیوٹ، پبلک پارک اور بازاروں میں بھی اس حوالے سے آگاہی مہم چلا رہے ہیں، روزمرہ بنیاد پر جتنے بھی ایمرجنسی کیسز پیش آتے ہیں ان کیلئے خون کی فراہمی یقینی بناتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے بلڈ کیمپ بھی لگاتے ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button