12 لاکھ خواتین کے لئے صرف ایک پارک، خواتین جائیں تو جائیں کہاں؟

حنا واجد

مردان کی24 لاکھ آبادی کے لئے صرف ایک فیملی پارک ہے جبکہ عام پارکس میں خواتین نے ہراسمنٹ کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے مسائل کی شکایات کی ہیں۔
مردان کا واحد فیملی پارک ضلع کے سب سے پوش علاقے علاقے شیخ متلون میں ہیں جہاں گاوں اور دور دراز علاقوں سے خواتین کا آنا نا ہونے کے برابر ہے ،یہاں صرف نزدیک سے خواتین آتی ہیں۔
شیخ ملتون کے فیملی پارک میں موجود گل بانو اپنے بچوں کے ساتھ آئی ہیں۔ وہ خود ایک بینچ پر بیٹھی ہوئی ہیں اور کہتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں سمیت یہاں آکر لطف اندوز تو ہورہی ہیں لیکن ساتھ میں لوگ تنگ بھی کرتے ہیں اور سیکیورٹی کا بھی کوئی خاص انتظام نہیں ہے، پارک میں سہولیات بھی نا ہونے کے برابر ہیں۔ اس پارک میں صرف ان حضرات کو آنے کی اجازت ہے جن کے ساتھ خواتین ہوں لیکن گل بانو کہتی ہے کہ خواتین کے بغیر بھی چند ایک افراد یہاں انٹری کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور یہی لوگ پھر خواتین کو تنگ کرتے ہیں۔
ان سب مشکلات کے باؤجود گل بانو کا پارک میں خواتین کے آنے کو خوش آئند سمجھتی ہیں کیونکہ یہاں آنے سے دن بھر گھر کا تھکان ختم ہوجاتا ہے لیکن زیادہ تعداد میں خواتین نا آنا گھر سے اجازت کا نا ملنا یا معاشی طور پر کمزرو ہونا جیسے مسائل شامل ہیں۔
مردان میں خواتین کے لئے علیحدہ پارکس کی عدم موجودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے کالج چوک میں ایک خالی جگہ کو فیملی پارک میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن وہاں پھر بھی خواتین کی آمد نہ ہونے کی برابر ہے۔
گل بانو بھی ایک دفعہ اس نئے پارک گئی تھی، وہ کہتی ہیں کہ وہاں نہ تو بیٹھنے کے لئے کوئی بنچز ہیں اور نہ ہی بچوں کی کھیلنے کھودنے کی جگہ۔
اسلئے گل بانو اپنے بچوں کو اب شیخ ملتون فیملی پارک اس لئے لے کر آتی ہیں کہ یہاں جھولوں سمیت خواتین کے بیٹھنے کا بھی خاص انتظام موجود ہیں۔
خیبر پختون خوا میں ایک ریسرچ کے مطابق تقریبا 46 فیصد خواتین مختلف ذہنی امراض میں مبتلا ہیں، نفسیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ ذہنی امراض میں مبتلا ہونے کی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی ہیں کہ خواتین کو سیر و تفریح کے مواقع نا ملنا ہے۔
اسی حوالے سے ذہنی امراض کی ماہر ڈاکٹر عرشی ارباب کہتی ہیں کہ ہر انسان کی ذہنی صحت کے لئے ضروری ہے کہ وہ سیر و تفریح کو خاص توجہ دیں، لیکن ہمارے پشتون معاشرے میں یہ ایک مشکل کام ہے کہ مرد کے ساتھ بیوی بھی سیر، پارک یا گھومنے پھرنے کے کہی چلی جائیں،کیونکہ یہاں پردے کا بھی بہت خیال رکھا جاتا ہے، مرد نہیں چاہتے کہ انکی خواتین کی بے پردگی ہو۔
ذہنی امراض کے بہت سی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں کی خواتین کو سیر و تفریح کے مواقع کم ہیںم خاص کر وہ خواتین کو ملازمت نہیں کرتی اور ہر وقت گھروں میں سارا وقت گزارتی ہیں۔
دوسری جانب مردان کے سپر وائزر ٹی ایم اے یاسین الیاس کے مطابق انتطامیہ نے یونین کونسل کی سطح پر چھوٹے چھوٹے پارک بنائے ہیں کیونکہ خواتین کو گھر سے باہر جانے کا بہت کم موقع ملتا ہے، جب کبھی فارغ ہوتو پارک چلی جاتی ہیں۔ان پارک کی تعداد 11 ہیں جس میں صرف ایک فیملی پارک ہیں اور خواتین کے لئے کم پارک ہونے کا احساس انکو بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ان پارک کو مزید بہتر بنانے کے لئے فنڈ رکھا ہے جو ان پر خرچ کیا جائے گا۔میگا پارک میں اب بھی کام جاری ہے جسکا رقبہ 398 کینال ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button