خیبر پختونخواکورونا وائرس

جب عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کی طالبہ سری لنکا میں ایک ماہ تک پھنسی رہی

‘آپ کا تعلق پاکستان کے پسماندہ قبائلی اضلاع سے ہو، آپ کا گھرانہ مالی طور پر علاقے کے کمزور ترین لوگوں میں شامل ہو، اوپر سے آپ کے سر پر والد کا سایہ بھی نہ ہو لیکن پھر بھی آپ باہر ملک میں منعقدہ کھیلوں کے مقابلے میں اپنے ملک کی نمائندگی کے لئے منتخب ہوجائے تو اس سے بڑی کوئی خوشی نہیں لیکن جب آپ سب تیاریاں مکمل کرکے روانہ ہونے لگے اور یک دم آپ کو بتا دیا جائے کہ عالمی وبا کورونا کی وجہ سے مقابلے منسوخ ہوگئے ہیں تو آپ کو اپنے قسمت پر ایک بار پھر بہت غصہ آتا ہے’
یہ کہنا ہے باجوڑ کے علاقے ماموند سے تعلق رکھنے والے تائیکوانڈو کے کھلاڑی نجیب اللہ کے جو رواں سال مارچ میں دبئی میں ایشیاء کی سطح پر ہونے والے مقابلوں کے لئے منتخب ہوگئے تھے۔ نجیب اللہ نے مقابلوں کے لئے اپلائی ذاتی طور پر کیا تھا اور انتخاب کے بعد ان کا سب سے بڑا مسئلہ ٹکٹ اور وہاں قیام کے اخراجات کا تھا لیکن ایک جاننے والے کی جانب سے تمام اخراجات اٹھانے کے بعد یہ بھی حل ہوگیا تو کورونا وائرس نے آ گھیر لیا۔
‘شروع ہی مجھے تائکوانڈو سے لگاو تھا لیکن والد کے سائے کے بغیر میرے لئے یہ شوق پوراکرنا مشکل تھا، مجھے معلوم ہوا کہ الہدیٰ سنٹر خار جو یتیموں کے لئے ایک ادارہ ہے اس میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے میدان میں بھی یتیم بچوں کی تربیت و امداد کی جاتی ہے میں نے وہاں داخلہ لیا اور اپنا سفر جاری رکھا’
انہوں نے بتایا کہ الہدیٰ سنٹر کے توسط سے انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں منعقد ہونے والے مقابلوں میں حصہ لیکر کئی مقابلے جیتے اور انعامات حاصل کئے۔
نجیب اللہ نے کہا کہ بدقسمتی سے کورونا کی عالمی وباء کی وجہ سے وہ ایونٹ منسوخ ہوا اورانکےسارے منصوبے ختم ہوئے۔’ میں اب بھی وہی کھیل شوق سے کھیلتاہوں اور میری خواہش ومطالبہ ہے کہ مستقبل میں بھی ایسے مقابلوں کا انعقاد کیا جائے اور مجھے اس میں شرکت کرنے کا موقع دیاجائے جس میں شرکت کرکے میں اپنے قوم وملک کا نام روشن کرسکوں’
کورونا وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے دبئی کی طرح متعدد ممالک میں مقامی، بین الاقوامی کھیل مقابلے یا تو ملتوی کروائے گئے یا منسوخ، جس کی وجہ سے نجیب اللہ جیسے سینکڑوں، ہزاروں لوگوں کے کیرئیرز بننے سے پہلے التوا یا غیریقینی صورتحال کا شکار ہوگئیں۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے اگر ایک طرف نجیب اللہ جیسے کھلاڑی باہر ملک منعقدہ مقابلوں میں شرکت کے لئے جا نہ سکیں تو دوسری جانب فلائٹس کے کینسل ہونے کی وجہ سے باہر ممالک میں بھی کئی کھلاڑی پھنس گئے۔
ایسی کھلاڑیوں میں چترال سے تعلق رکھنے والی اقرا رحمان بھی شامل ہیں جو کہ فروری کے مہینے عالمی مقابلوں میں شرکت کے لئے سری لنکا گئی تھی لیکن واپسی میں فلائٹس بندش کی وجہ سے ایک ماہ تک پھنسی رہی۔ ضلع چترال سے تعلق رکھنے والی عبدالولی خان یونیورسٹی کی طالبہ اور ٹیبل ٹینس کی عالمی کھلاڑی اقراء رحمان کا کہنا ہے ‘ہم 3 کھلاڑی اور ایک سٹاف ممبر فروری 2020 میں چیمپیئن شپ کے لیے ایک ماہ کے دورے پر سری لنکا گئے جہاں ہم نے مختلف چیمپئن شپ کئے جس میں ہم نے تین گولڈ میڈل جیتے مگر بدقسمتی سے جس دن ہم واپس پاکستان آ رہے تھے تو ایئرپورٹ میں کرونا کیس سامنے آیا پھر انہوں نے تمام ملک کو سیل کیا اور ہم مزید ایک ماہ تک سری لنکا میں پھنسے رہیں’
انہوں نے کہا کہ یہ ایک مہینہ بہت مشکل سے وہاں گزارا کیونکہ وہ نہ تو ذہنی طور پر اس کے لئے تیار تھی اور نہ ہی ان کے پاس لاک ڈاؤن میں وقت گزارنے کا کوئی تجربہ تھا۔


کورونا وبا اور لاک ڈاؤن کے خیبرپختونخوا کے کھلاڑیوں پر دیگر اثرات
کرونا وبا کی وجہ سے جہاں زندگی کے دوسرے روزگار متاثر ہوئے وہاں تمام دنیا بالخصوص پاکستان اور خیبر پختونخوا میں کھیل کے میدان بھی ویران ہوگئے جن میں ہزاروں مرد و خواتین کھلاڑی بشمول خصوصی حیثیت کے حامل کھلاڑی بھی کھیلوں کی سرگرمیوں سے دور رہے۔ محکمہ کھیل خیبرپختونخوا کے ساتھ کھیلوں کے انعقاد میں تعاون کرنے والی تنظیم کا رکن اور ویل چیئر کرکٹ کے عالمی کھلاڑی آیازخان نے ٹی این این کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وبا کی وجہ سے کھیل کے دو بڑے انٹرنیشنل ایونٹس نہ ہو سکے جبکہ دوسری جانب انگلینڈ میں ہونے والا 2020 ویل چیئر ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنمنٹ بھی تعطل کا شکار ہوا جو اب 2021ء میں تھائی لینڈ میں کھیلا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اس کے لئے بہت تیاری کی تھی اور چونکہ پاکستان پہلے سے ایشیاء کا چیمپیئن ہے تو بہت توقع کی جا رہی تھی کہ یہ ورلڈ کپ پاکستان جیتے گا۔

ایاز خان کے مطابق خصوصی کھلاڑیوں کو اس سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان پریمیئر لیگ آف کرکٹ ٹورنمنٹ کا دوسرا ایونٹ 2020 میں ہونا تھا وہ بھی کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی نظر ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف کھیلوں میں مجموعی طور پر چار ہزار تک مرد خواتین خصوصی کھلاڑی کرونا وباء کی وجہ سے کھیلوں سے محروم ہوئے۔
محکمہ کھیل کے ڈائریکٹر سید ثقلین شاہ کے مطابق کروناء وبا کی وجہ سے پختونخوا میں تقریبا آٹھ بڑے کھیل کے ایونٹس نہ ہو سکے جن میں پورے صوبے سے دس ہزار تک مرد و خواتین سمیت خصوصی کھلاڑی حصہ لے رہے تھے۔
دوسری جانب ضم شدہ قبائلی اضلاع کے ڈائریکٹر سپورٹس محمد نواز نے بات کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع میں "مرجڈ ایریا سپورٹس فیسٹیول” کے نام سے سب سے بڑی سرگرمی ہونی تھی جو کرونا کی وجہ سے ختم کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس میں مجموعی طور پر سات ہزار مرد و خواتین کھلاڑی حصہ لے رہے تھے اور 26 مرد اور 5 خواتین کے گیمز شامل تھے۔ انہوں نے مزید کہا کے ان مقابلوں میں فٹبال، کرکٹ، والی بال، باسکٹ بال، مارشل آرٹ کے چھ مختلف کیٹگریز کے گیمز، رگبی اور کبڈی وغیرہ شامل تھے جبکہ خواتین کے بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، والی بال، آرچری اور ٹگ آف وار کے کھیل شامل تھے۔
ڈائریکٹر کے مطابق یہ تمام کھیل قبائلی اضلاع میں منعقد ہونے تھے جن میں تمام کھلاڑیوں کو سپورٹس کِٹس دینے تھے مگر بدقسمتی سے یہ تمام کھیل کرونا وباء کی وجہ سے نہ ہوسکے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم پر اُمید ہے کہ یہ کھیل اگلے سال دوبارہ منعقد کروا سکے۔


فٹنس کے مسائل
ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے ٹیبل ٹینس کی عالمی کھلاڑی اور نیشنل لیول کے گولڈ میڈلسٹ سید محمد جابر بنوری نے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وبا کی وجہ سے قیوم سپورٹس کمپلیکس پشاور بند کر دیا گیا اور ہم کئی ماہ تک کھیل سے دور رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گھر میں فزیکل ٹریننگ کرتے تھے تاکہ جسمانی طور پر تندرست رہے مگر عملی طور میدان سے باہر رہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب جب دوبارہ سپورٹس کمپلیکس کھل گیا تو ہم اب کھیل میں زیادہ محنت کرتے ہیں تاکہ جلد ہی اپنی پہلی حالت تک پہنچ جائیں اور عالمی مقابلوں کے لیے اپنے آپ کو تیار کرا سکے۔
ضلع کرم پاڑاچنار سے تعلق رکھنے والے کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی امجد کا کہنا ہے کہ جب کھیل بند ہوگئے تو ہمارے لئے جینا محال ہوگیا تھا کیونکہ کھلاڑی کچھ کھائے بغیر تو گزارا کر سکتا ہے مگر کھیل کے بغیر کھلاڑی کی زندگی ادھوری رہ جاتی ہے۔
کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ کوچنگ کا سلسلہ بھی بند رہا اور کوچز بھی بے روزگار رہے۔ پاڑاچنار سے تعلق رکھنے والے کرکٹ کے مشہور کوچ منور سائیں کا کہنا تھا کہ شہر اور دور دراز کے دیہات سے کھلاڑی کوچنگ کے لئے ان کے پاس آتے تھے مگر کورونا کی وجہ سے جہاں کھیل کود کا سلسلہ بند رہا وہاں کوچنگ کا عمل بھی متاثر ہوگیا اور کھلاڑیوں کے ٹریننگ کے سیشن بھی بند ہوگئے۔
بحالی کی جانب سفر
کورونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں کئی ٹورنامنٹ منعقد نہ ہوسکیں مگر اب دوبارہ کرکٹ، فٹ بال اور باسکٹ بال کے ایونٹس نہ صرف ضلعی سطح پر منعقد ہورہے ہیں بلکہ قبائلی اضلاع میں بھی ان کا انعقاد کیا جارہا ہے۔
کھلاڑیوں نے دوبارہ کھیلوں کے مقابلے شروع ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ آنے والے کھیلوں کے مقابلوں کے لئے بھر پور تیاری کریں گے۔

اس رپورٹ کے لئے ضلع خیبر سے شاہ نواز افریدی، باجوڑ سے ذاہد جان اور کرم سے علی افضل نے ڈیٹا جمع کیا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button