بلاگزلائف سٹائل

کیا بوڑھے والدین کے لیے اولڈ ایج ہوم بہترین جگہ ہے؟

نازیہ

کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ایک اولڈ ایج ہوم میں ایک خاتون کی ویڈیو وائرل ہوئی۔ اس خاتون کا نام مقدس ہے اور وہ کہتی ہے کہ اس کے دو بیٹے امریکہ میں ہے ایک بیٹا جرمنی میں ہے۔ انکے شوہر ڈاکٹر تھے جب تک وہ زندہ تھے وہ اپنے گھر میں تھی۔ ان کے انتقال کے بعد تھوڑا تھوڑا وقت اپنے بیٹوں کے ساتھ گزارا ہے اور وہ اب اس اولڈ ایج ہوم میں رہ رہی ہیں۔ ماں تو ماں ہوتی ہیں پھر بھی اس نے اپنے بیٹوں کی شکایت نہیں کی لیکن باتوں سے پتہ چلا کہ کہ وہ اپنے بیٹوں سے نا خوش ہے۔

یہ کہانی ایک مقدس کی نہیں ہے بہت سارے والدین اولڈ ایج ہوم میں بچوں کی راہ تکتے تکتے اس فانی جہان سے کوچ کرجاتے ہیں لیکن بچے ان سے ملنے تک کی زحمت نہیں کرتے۔ آئے روز ان والدین پر پروگرام بنائے جاتے ہیں جن میں  والدین خون کے آنسو روتے ہیں۔ ٹی وی پر اکثر عید کے دن یا ماں باپ کے دن اولاد سے رابطے کر کے ان کو اچانک والدین سے ملوایا جاتا ہے۔ اور یوں بات ختم کر دی جاتی ہے۔

آخر سوچنے کی بات ہے کہ مسلمان ممالک میں اولڈ ایج ہوم کیوں؟ اخر کیوں والدین اولاد کے دل میں اپنی محبت پیدا نا کر سکے؟ کیا وجہ ہے کہ اولاد احسان فراموش ہو گئی ہے؟ کیا اولڈ ایج ہوم بہترین جگہ ہے؟

اکثر والدین اپنے بچوں کے سامنے اپنے والدین اور اپنے بڑوں کی ادب نہیں کرتے۔ گھروں میں دینی ماحول کا نہ ہونا، والدین کی مصروفیات، موبائل کا ضرورت سے زیادہ استعمال بچوں کو خراب کر دیتا ہے۔ ہم نے اسلام اور اپنے کلچر کو چھوڑ کر یورپ والوں کو فالو کرنا شروع کردیا ہے جہاں پر جب والدین بوڑھے ہوجاتے ہیں تو ان کو اولڈ ہومز میں ڈال دیا جاتا ہے اور یہ نہیں سوچتے کہ آج ہم اپنے والدین کو بوجھ سمجھ کر اولڈ ایج ہومز میں چھوڑ تو آتے ہیں کل کو ہماری اولاد بھی ہمارے ساتھ یہی سلوک کر سکتی ہے۔

والدین اپنی اولاد کو اس امید پر بڑا کرتے اور پڑھاتے ہیں کہ جب وہ خود بوڑھے اور کمزور ہو جائیں گے تو یہ اولاد ان کا سہارا بنے گی۔ ایک باپ اکیلا دس دس بچوں کو پالتا ہے۔ والدین بچے  پیدا ہونے پر بڑا جشن مناتے ہیں خاص طور پر بیٹے کے پیدا ہونے پر کیونکہ والدین بیٹے کو اپنا جان نشین کہتے ہیں۔ اسے بڑا کر کے پھر اسے کوئی اچھی نوکری دلوا کر اس کی شادی کروائی جاتی ہے لیکن آخر میں یہی بیٹا انکو اولڈ ایج ہوم منتقل کردیتا ہے۔

والدین جو وقت کے ساتھ بوڑھے ہوجاتے ہیں اور جسمانی اور مالی طورپر کمزور ہوجاتے ہیں اور انہیں جب  سہارے کی ضرورت ہوتی ہے تو ایک ایک کرکے بیٹے چلے جاتے ہیں اور اگر بیٹیاں ہیں تو ان کی شادیاں ہوجاتی ہے۔ اس عمر میں اکثر اولاد انہیں دھوکے سے یا علاج کے بہانے اولڈ ہومز میں چھوڑ دیتے ہیں جہاں پر انہیں رہنے کی سہولت اور کھانا پینا تو مل جاتا ہے لیکن وہ گھر کا ماحول اور آزادی نہیں ملتی۔ غریب لوگ پھر بھی اپنے والدین کی خدمت کرتے ہیں مگر امیر لوگوں میں یہ بات عام ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود آپ والدین کی عظمت دیکھیں کہ وہ پھر بھی اپنی اولاد کو بددعا نہیں دیتے۔

ان لوگوں کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے لاوارث بوڑھوں، کمزور، محتاج، اولاد کے ہاتھوں گھروں سے نکالے ہوئے، اور بے سہارا لوگوں کے لیے اولڈ ایج ہومز بنائے ہیں۔ ایدھی سینٹر کو ہی دیکھیں جہاں پر ایسے لوگوں کو کھانا، پینا، کپڑے اور زندگی کی سہولتیں مہیا کی جاتی ہے۔ مگر یہ لوگ دن اور رات اپنوں کے آنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ شاید کوئی ان کو لینے آئے گا مگر ان کے انتظار میں آنکھیں بند ہوجاتی ہے۔ خاص طور پر جب عید کا موقع ہوتا ہے تو یہ لوگ بڑے بے چین ہوتے ہیں۔

کبھی یہی ماں باپ اپنے بچوں کو بازار لے جاتے تھے۔ عید پر ان کو نئے کپڑے اور جوتے دلاتے تھے اور عیدی بھی دیتے تھے۔ اولڈ ایج ہومز میں رہنے والے والدین سے جب ان کے بچے ملنے نہیں اتے تو وہ عید کا دن آنسو بہا کر گزارتے ہیں۔ بے حسی کی حد تو یہ ہے کہ جب کوئی اولڈ ایج ہوم میں مرجاتا ہے اور ان کے بچوں کو یا پھر دوسرے اپنوں کو اطلاع دی جاتی ہے تو وہ پھر بھی نہیں آتے اور یوں انہیں غسل دے کر دفنایا جاتا ہے۔ اکثر بچے  ان اداروں میں اپنے والدین کو چھوڑ کر پھر کبھی ادھر کا رخ نہیں کرتے اور نا ہی فون اٹھاتے ہیں۔

میں اس بلاگ کے ذریعے ان تمام بچوں سے درخواست کرتی ہوں کہ اپنے والدین کو اولڈ ایج ہومز میں داخل نہ کرائیں اور جنہوں نے کیا ہے وہ ان کو واپس لے آئیں اور ان سے معافی مانگیں کیونکہ ایسا کرنے سے نہ تو وہ جنت میں جائیںگے اور نہ ہی اللہ کے عذاب سے بچ سکیں گے۔ آج اگر آپ ان کے ساتھ یہ سلوک کررہے ہیں تو کل کو  آپ کی اولاد بھی آپ کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے کیونکہ یہ مکافات عمل ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button