‘ جب کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پرخاندان والوں نے میرے گھرانے کو ہی اکیلا چھوڑ دیا’

خالدہ نیاز

‘ میرے لیے وہ وقت سب سے زیادہ مشکل اور تکلیف دہ ثابت ہوا جب کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد خاندان والوں نے ہمارے سارے گھرانے کو اکیلا چھوڑ دیا۔’

یہ کہانی پشاور سے تعلق رکھنے والی صحافی ماریہ کی ہے۔ ماریہ کی مشکل یہ تھی کہ ان کو کورونا تب ہوا جب وہ کورونا سے متاثر اپنی ماں اور بہن کا خیال رکھ رہی تھیں، کچھ دنوں بعد ان کی تکالیف اس وقت بڑھیں جب ان کے والد کا بھی ٹیسٹ مثبت آیا اور ان کے باقی گھر والوں نے ان کو اکیلا چھوڑ دیا۔

‘جب مجھے، میری بہن اور امی ابو کو کورونا وائرس ہوا تو بدقسمتی سے ہمارے باقی گھر والوں نے، جو ہمارے اپنے تھے، ہمیں اس ڈر سے اکیلا چھوڑ دیا کہ کہیں ان کو بھی کورونا وائرس نہ ہو جائے، میں یہ نہیں کہتی کہ انہوں نے غلط کیا، وہ احتیاط ضرور کرتے لیکن ان کا مریضوں کو یوں گھر میں اکیلا چھوڑ کر جانے سے مجھے بہت تکلیف ہوئی۔’

ایک سوال کے جواب میں ماریہ نے کہا ‘ہم اپنے لیے خود خوراک کا بندوبست کرتے تھے لیکن پھر ہمارے کچھ رشتہ داروں نے ہماری مدد کی اور ایک کزن آتی تھی جو ہمارے لیے کھانا بناتی تھی۔’

‘میری والدہ پہلے سے دل کی مریضہ ہے پہلے ان میں کورونا کی علامات شروع ہوئیں، اس کے بعد میری بہن بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئی اور ماں اور بہن کا خیال رکھتے رکھتے مجھے بھی کورونا وائرس ہو گیا۔’ ماریہ نے کہا۔

اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے ماریہ کا کہنا تھا ‘پہلے دن مجھے بہت تیز بخار ہوا اور پورے جسم میں ایسا درد تھا جس کی تکلیف میں بیان نہیں کر سکتی، میرا جسم درد سے ٹوٹ رہا تھا، جب مجھ میں علامات ظاہر ہوئیں تو میں اسی دن ہسپتال گئی اور اپنا کورونا ٹیسٹ کروایا اور جیسے ہی ہسپتال سے واپس آئی تو خود کو قرنطینہ کر لیا۔’

قرنطینہ میں ہر دن گزرنے کے ساتھ میرے اندر کورونا کی علامات زیادہ نظر آنا شروع ہوئیں، میرا نارمل ٹمپریچر 100 تک ہوتا تھا جو بعض اوقات 102 تک چلا جاتا تھا، میرے سر میں بہت درد رہتا تھا اس کے ساتھ ساتھ میرے پٹھوں میں شدید قسم کا درد ہوتا تھا، اس کے علاوہ مجھے دست کی شکایت اور الٹیاں بھی آتی تھیں جبکہ کمزوری حد سے زیادہ محسوس ہوتی تھی۔

 

اس کے بعد میں نے اپنا علاج شروع کیا تو اس کے لیے ڈاکٹر سے بات کی، انہوں نے مشورہ دیا کہ خود کو گھر پر قرنطینہ کر لیں کیونکہ وہاں آپ کو زیادہ بیماریاں لگنے کاخطرہ ہے تو میں نے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے خود کو گھر میں قرنطین کر لیا، میں مسلسل ڈاکٹر کے ساتھ رابطے میں ہوتی تھی، دوائیاں بھی ان سے پوچھ کر لیتی تھی، ساتھ میں میں وٹامن سی کی گولیاں بھی کھاتی رہی اور ساتھ ساتھ میں نے گھریلو ٹوٹکے بھی استعمال کیے، میں نے ادرک کا پانی، شہد اور لیموں کا استعمال بہت زیادہ کیا ہے، قرنطینہ کے دوران کھجور بھی کھاتی تھی اور کلونجی کا بھی کافی استعمال کیا ہے اور پانی میں گرم پیتی تھی۔’

قرنطینہ کے دوران ماریہ کیا کرتی تھیں، اس حوالے سے انہوں نے کہا، ‘میں بہت زیادہ احتیاط سے کام لیتی تھی۔ جب مجھ میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی اور میں قرنطینہ میں چلی گئی، یہاں تک کہ سوتے ہوئے بھی میں ماسک پہنا کرتی تھی اور ایسا میں اس لیے کرتی تھی کہ مجھے گھر والوں کی فکر ہوتی تھی کہ میری وجہ سے ان کو کورونا کا مرض لاحق نہ ہو جائے کیونکہ ہم پہلے ہی سے چار لوگ اس سے متاثر ہو چکے تھے۔’

قرنطینہ میں گزارے ہوئے سات آٹھ دن مجھ میں مختلف قسم کی علامات ظاہر ہوئی تھیں، کبھی سر میں درد تو کبھی الٹیاں تو کبھی دست لیکن اس کے بعد میں ٹھیک ہونا شروع ہوئی۔ سب سے پہلے میری الٹیاں رکیں، اس کے بعد دست کی شکایت دور ہوئی اور بخار بھی اترنے لگا کیونکہ میں اس دوران پیناڈول کی گولیاں لے رہی تھی، جب مجھے 12 سے 13 دن قرنطینہ میں ہو گئے تو میری سارے علامات ختم ہو گئیں لیکن ایک مسئلہ میرا ابھی بھی ہے اور وہ ہے پٹھوں کے درد کا، میرے پٹھوں میں اب بھی درد ہوتا ہے حالانکہ اب میں کورونا کو شکست بھی دے چکی ہوں لیکن کمزوری اب بھی ہے۔ اگر میں ایک دو کام کر لوں تو میرے پٹھوں میں درد شروع ہو جاتا ہے۔’

 

بعض لوگ کورونا وائرس ہو جانے کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہوتے ہیں لیکن ماریہ نے دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور خوف کو خود پر طاری نہ ہونے دیا۔ انہوں نے کہا ‘ایک بات کرنا چاہوں گی کہ اگر کسی کو کورونا وائرس ہو بھی جائے تو ان کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ احتیاطی تدابیر اور قرنطینہ اختیار کر کے اس کو شکست دی جا سکتی ہے، میں کہوں گی کہ زیادہ تر لوگ جو اس بیماری سے خراب حالت میں چلے جاتے ہیں وہ شاید اسی خوف کی وجہ سے جاتے ہیں کہ ہماری اس سے جان چلی جائے گی، یہاں میں اپنی امی کی مثال دوں گی، ان کو دل کی بیماری لاحق ہے، تھائی رائیڈ کا بھی مسئلہ ہے، ان کو سٹنٹ لگے ہوئے ہیں اس کے ساتھ بی پی کا بھی مسئلہ ہے لیکن انہوں نے ہمت کے ساتھ اس بیماری کا مقابلہ کیا ہے اور صحت مند ہو گئی ہیں، وہ نہ صرف خوفزہ نہیں ہوتی تھیں بلکہ مجھے بھی کہتی تھیں کہ حوصلہ نہیں ہارنا تو میں کہوں گی کہ بس کورونا کے مریض ہمت سے کام لیں۔’

یہ بھی پڑھیں: ‘کورونا کا شکار ہوا تو گاؤں میں یہ پروپیگنڈا تھا کہ رقم بٹورنے کے لئے ڈرامہ کر رہا ہوں’

‘کورونا ٹسٹ مثت آیا تو ایسے لگا مجھ سے کوئی غیراخلاقی کام سرزد ہوا ہو’ 

جب بونیر کا ہسپتال کورونا مریض کو حوالات اور ڈاکٹر تھانیدار لگا

قبائلی شخص کا کورونا مریض سے پلازما ڈونر تک کا سفر کیسا رہا؟

قرنطینہ میں میں زیادہ تر کتابیں پڑھتی تھی کیونکہ مجھے کتابیں پڑھنا اچھا لگتا ہے، جب بھی مجھے منفی خیالات آنے لگتے تو میں کتاب اٹھا کر اس کو پڑھنا شروع کر دیتی تھی۔ اس کے علاوہ میں ٹی وی بھی دیکھتی تھی البتہ میں خبریں نہیں دیکھتی تھی کیونکہ خبروں میں زیادہ تر کورونا ہلاکتوں کے حوالے سے بتایا جاتا ہے، جس چیز کو میرا دل کرتا تھا وہ کھاتی تھی، ہر طرح کی خوراک میں نے لی ہے اور باقی جن چیزوں میں میری دلچسپی ہوتی تھی وہی کرتی تھی تاکہ میں ری لیکس رہوں اور خوفزدہ نہ ہو جاؤں۔’ ماریہ نے جواب دیا۔

ٹیسٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ‘میں نے اپنا پہلا ٹیسٹ پولیس سروسز ہسپتال پشاور میں کیا تھا جو آسانی سے ہو گیا تھا لیکن مسئلہ یہ ہوا تھا کہ جب میں نے ٹیسٹ دیا اور پھر واپس آئی تو اس میں ایک تو میرا نام غلط لکھا گیا تھا دوسرا مجھے کئی دن گزرنے کے بعد بھی ہسپتال کی جانب سے نتیجہ نہیں ملا جس پر میں نے اپنے ذرائع سے پھر وہ لسٹ حاصل کی جو روزانہ کی بنیاد پر اعلیٰ حکام کے ساتھ شیئر کی جاتی ہے، بعد میں دوسرا ٹیسٹ جب دیا تو حالات تب بہت برے ہو چکے تھے، ٹیسٹ کا رزلٹ مجھے 7 دنوں کے بعد ملا اور وہ بھی مجھے اتنی آسانی سے نہیں ملا اور نہ ہی ہسپتال کی طرف سے ملا ہے، میں نے اپنے ذرائع سے معلومات کی ہیں جنہوں نے مجھے کہا کہ آپ کا نتیجہ منفی ہے اور آپ باہر جا کر اپنے روزمرہ کے کام کر سکتی ہیں، ٹیسٹ وقت پر نہ ملنے کی وجہ سے میں نے قرنطینہ میں 14 کے بجائے 20 دن گزارے ہیں۔’

‘ہم چاروں گھر والے شکار ہوئے تھے تو ہمارے لیے سب سے مشکل کام گھر میں خوراک اور باقی چیزوں کا بندوبست کرنا تھا، میں، میری بہن اور امی ہم نے ایک ہی کمرے میں رہائش اختیار کی تھی قرنطینہ کے دوران لیکن ایس او پیز کا خیال رکھا تھا، سب کا بستر الگ تھا، خوراک سب الگ کھاتے تھے اور ایک دوسرے سے 6 فٹ کا فاصلہ بھی رکھتے تھے، ہر وقت ماسک لگا کر رکھتے تھے۔’ ماریہ نے کہا۔

Show More
Back to top button